Saturday , April 4 2020

جامعہ تشددویڈیوز: دہلی پولیس ٹیم کا کیمپس کا دورہ

نقصانات کا جائزہ ۔ جامعہ انتظامیہ سے تمام ویڈیوز حوالے کرنے کی خواہش
نئی دہلی 18 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی ایک ٹیم نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس کا آج دورہ کیا ۔ یہ دورہ اس لئے کیا گیا کیونکہ کچھ ویڈیوز جاری ہوئے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے یونیورسٹی کی لائبریری میں تشدد ہوا ہے اور پولیس نے لاٹھی چارچ کیا ہے ۔ یہ ویڈیوز 15 ڈسمبر کے ہیں۔ چار ویڈیوز اس واقعہ کے تعلق سے آن لائین وائرل ہوئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ( کرائم ) راجیش دیو کی قیادت میں ایک ٹیم نے یونیورسٹی لائبریری کا دورہ کیا جو کیمپس میں پولیس کارروائی میں بری طرح متاثر ہوئی تھی ۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک پولیس ٹیم نے اس تشدد کے بعد تحقیقات کیلئے کیمپس کا دورہ کیا ہے ۔ ٹیم کے ارکان نے وہاں صورتحال کا جائزہ لیا اور لائبریری میں ہوئے نقصان کا ویڈیو فلم بھی تیار کیا ۔ ان لوگوں نے پراکٹر کے دفتر کا بھی دورہ کیا ۔ اس کیس کی کرائم برانچ کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ ہم کو کئی لوگوں سے پوچھ تاچھ کرنے کی ضرورت ہے اور شواہد بھی جمع کرنے ہیں۔ ہم نے جامعہ انتظامیہ سے بھی خواہش کی ہے کہ ہم کو تمام ویڈیوز بھی حوالے کریں جو اس واقعہ سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے اس سے پہلے جامعہ کا دورہ نہ کرنے کی کچھ وجوہات تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہصورتحال معمول پر آجائے اور طلبا اپنے امتحانات مکمل کرلیں۔ ہم ان لوگوں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کو ویڈیو میں دیکھا گیا ہے ۔ اتوار کو منظر عام پر آئے ایک ویڈیو میں نیم فوجی دستوں اور پولیس اہلکاروں کو لائبریری میں طلبا پر لاٹھیاں برساتے دیکھا گیا تھا ۔ دو دوسرے ویڈیوز بھی بعد میں سامنے آئے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ کچھ نوجوان اپنے چہروں کو چھپائے لائبریری میں داخل ہو رہے ہیں۔ پیر کو سامنے آئے ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کو طلبا پر لاٹھیاں برساتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ خاتون طالبات کو پولیس سے التجاء کرتے ہوئے لائبریری کے باہر جاتے دیکھا گیا تھا اور ایک پولیس اہلکار کو کیمرہ توڑتے بھی دیکھا گیا تھا ۔ 15 ڈسمبر کو پولیس نے یہاں بے تحاشہ لاٹھی چارچ کیا تھا اور آنسو گیس کے شیلس برسائے تھے ۔ یہ کارروائی سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا کو منتشر کرنے کے لئے کی گئی تھی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT