ججس کی سماجی زندگی متوازن رہتی ہے
جسٹس این وی رمنا کی تلخ بیانی
نئی دہلی۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ ججس ہمیشہ تنقیدوں کے لیے آسان نشانہ سمجھے جاتے ہیں کیوں کہ یہ لوگ خود کو محتاط رکھتے ہیں آئے دن وہ گپ شپ کا موضوع ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے نے بھی محتاط طریقہ سے یہی کہا ہے کہ آزاد عدلیہ کی حدیں بھی عاملہ سے آزاد نہیں ہیں۔ ججس کو دیگر کئی گوشوں سے دبائو ہوتا ہے۔ یہ لوگ آزادانہ طور پر اپنے کام انجام نہیں دے سکتے۔ ججس نے جوڈیشیری، ججس اور ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کتاب کی رسم اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ججس کو اپنی سماجی زندگی میں توازن رکھنا ہوتا ہے تاکہ وہ انفرادی طور پر اپنی زندگی کو گزارسکیں۔ جیسا کہ ججس کو خود پر پابندیاں عائد کرلینی ہوں گی۔ ججس کو اپنی دفاع کے لیے اظہار خیال میں حتی الامکان احتیاط کیا جانا چاہئے۔ یہ لوگ تنقیدوں کا ان دندوں آسان نشانہ بن رہے ہیں۔ جسٹس رمنا نے اپنے کلیدی خطبے میں کہا کہ سوشل میڈیا اورٹیکنالوجی نے ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کردیئے ہیں۔ جہاں ججس ’’Juicy Gossip‘‘ (مزیدار گپ شپ) کا شکار ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پوسٹس میں انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ذاتی تجربہ ہے کہ جج کی زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی۔ ان دنوں جج کا عہدہ سنبھالنا کسی بھی دیگر پیشے کے مقابل آسان نہیں ہے۔ ججوں کو کئی قربانیاں دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ججس کی آزادانہ کارکردگی پر ہی ایک مضبوط ملک کا مستقبل منحصر ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ججس اور عدلیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج دستور میں مروج مقاصد کی طرف ہماری قوم کی پیشرفت کو یقینی بنانا ہے۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب عدلیہ کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔ دستور میں حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ ماضی کے عدم مساوات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی لیے دستور کو صرف ایک ہی سمت میں استعمال کرنے سے مسائل پید ا ہوسکتے ہیں۔