اردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ، پھر بھی اس کے ساتھ ناانصافی
نظام آباد :31؍ اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)اُردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ہے اس پر سختی کے ساتھ عمل کرنے ہدایت دیتے ہوئے حکومت نے اُردو پر عمل آوری کیلئے جی او جاری کیا تھا لیکن عہدیدار اُردو کے ساتھ نا انصافی کرتے ہوئے کھلے عام نظر آرہے ہیں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ 5؍ ستمبر کو نظام آباد کی جدید کلکٹریٹ کا افتتاح عمل میں لارہے ہیں ۔ باب الداخلہ سے لیکر اعلیٰ عہدیداروں کے چیمبر تک اُردو کو یکساں طور پر نظر انداز کردیا گیا ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت اُردو اکیڈیمی میناریٹی فینانس کارپوریشن کے علاوہ دیگر محکمہ جات شامل ہے اور اقلیتی بہبود محکمہ اُردو محکمہ کو اُردو پر عمل کرنا دیگر محکمہ سے بھی زیادہ ذمہ داری ہے کیونکہ اس محکمہ سے وابستہ عہدیدار کے علاوہ دیگر افراد کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہوتا ہے اور اس دفتر میں اُردو کا بول چال ہوتا ہے ۔ جدید کلکٹریٹ میں قائم کردہ اقلیتی بہبود کے دفتر کا جائزہ لیا تو یہ شکایت واضح طور پر ظاہر ہوئی کہ دفتر کے بورڈ پر اُردو کو نظر انداز کردیا گیا ۔ تلگو اور انگریزی زبان میں نصب کردہ تختی واضح طور پر آویزاں کی گئی ۔ عہدیدار کم از کم دفتر کے باہر تختی پر اُردو کو نظر انداز کرنے کا جائزہ تک بھی نہیں لیا جس سے اُردو داں طبقہ حکومت پر شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی شکایت کررہے ہیں کہ حکومت کی نیت میں کھوٹ ہے جی او جاری کرتے ہوئے عمل آوری کی ہدایت دے رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف نظر انداز کرنے پر کوئی بھی کارروائی کرنامناسب نہیں سمجھ رہے ہیں جس کی وجہ سے اُردو زبان پر عمل کرنے والا محکمہ بھی اُردو کو کھلے عام طور پر نظر انداز کردیا ۔ جبکہ حیدرآباد کے بعد نظام آباد میں سب سے زیادہ اُردو کا چلن ہے ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر رائو کے دورہ سے قبل باب الداخلہ سے لیکر تمام محکمہ جات کے دفاتر اور عہدیداروں کے چیمبرس کے بورڈ پر اُردو میں تحریر کرنے کا اُردو داں طبقہ کی جانب سے حکومت کی جانب سے پرُ زور مطالبہ کرتے ہوئے صدرنشین اُردو اکیڈیمی سے بھی اس بات کی خواہش کی جارہی ہے کہ ریاست میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ فراہم کرنے کیلئے اُردو اکیڈیمی کو سرگرم بناتے ہوئے اکیڈیمی کی جانب سے ریاست کے تمام محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کو واضح طور پر احکامات جاری کرنے کیلئے ہدایت دینے کی اپیل کی جارہی ہے ۔