برلن: جرمن پولیس نے 7 دسمبر 2022ء کو ملک گیر چھاپوں کے ایک سلسلے میں ریاست کے خلاف مشتبہ سازش کا پردہ فاش کرتے ہوئے رائش بْرگر نامی انتہائی دائیں بازو کی تنظیم سے تعلق کے شبہ میں تقریباً 25 افراد کو گرفتار کیا تھا۔جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی ایک تنظیم پر بغاوت کی سازش کے الزامات کے تحت قائم کیے گئے تین میں سے پہلے مقدمہ کی سماعت کا آغاز پیر 29 اپریل کو ہو گیا ہے۔ اس مقدمے میں شریک ملزمین پر سنگین غداری کی سازش تیار کرنے اور ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے کا الزام ہے۔یہ تمام مشتبہ ملزمین نام نہاد ”رائش بْرگر‘‘ تحریک کا حصہ اور مبینہ طور پر موجودہ جرمن حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کر رہے تھے۔ ’’رائش ْبرگر‘‘یا ”سلطنت کے شہری‘‘ نامی اس انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد دوسری عالمی جنگ کے بعد کی جرمن ریاست کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ جرمن ریاست دوسری عالمی جنگ جیتنے والی اتحادی طاقتوں کے ذریعہ وجود میں لائی اور کنٹرول کی گئی۔جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر نے آج پیر کی صبح جرمن براڈکاسٹر زیڈ ڈی ایف کو بتایا کہ یہ ہماری آئینی ریاست کی طاقت ہے کہ ‘رائش سٹیزنز‘ کے اب تک کے سب سے بڑے دہشت گرد نیٹ ورک پر مقدمہ چل رہا ہے اور ریاست کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے والے عسکریت پسندوں کو اپنے منصوبوں کیلئے جواب دینا ہو گا۔‘‘جرمن پولیس نے سات دسمبر 2022ء کو ملک گیر چھاپوں کے ایک سلسلے میں ریاست کے خلاف مشتبہ سازش کا پردہ فاش کرتے ہوئے تقریباً 25 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ اس دوران 380 سے زائد آتشیں ہتھیار اور تقریبآ ڈیڑھ لاکھ گولیاں برآمد کی گئیں۔ اس گروپ کی مبینہ عسکری شاخ سے تعلق رکھنے والے ملزمین کو اشٹٹ گارٹ میں عدالت کا سامنا ہے۔ نو ملزمین کی نمائندگی 22 وکلاء کر رہے ہیں، جب کہ اس مقدمے میں 270 پولیس افسران سمیت 300 سے زائد گواہوں کو نامزد کیا گیا ہے۔21 مئی کو فرینکفرٹ میں اس سازش کے سرغنہ سمجھے جانے والے دس ملزمین کے خلاف ایک انتہائی اعلیٰ سطحی مقدمہ شروع ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رائش برگر کے مبینہ مزید آٹھ مشتبہ ارکان کو 18 جون سے میونخ میں مقدمے کی سماعت کا سامنا ہوگا۔بغاوت کے الزامات کا سامنا کرنے والے رائش ْبرگر گروپ کے مبینہ سرغنہ 72 سالہ ہینرش ہشتم پرنس روئس کا تعلق فرینکفرٹ میں اشرافیہ کے ایک خاندان سے ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے ایک اسٹیٹ ایجنٹ ہیں۔ انہیں مبینہ طور پر ان کے حامیوں نے ایک جرمن ریاست کے عارضی سربراہ کے کردار کیلئے مختص کیا تھا۔ان کے گروپ پر جرمن پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے اور چانسلر اولاف شولس، وزیر خارجہ انالینا بیئربوک اور قدامت پسند اپوزیشن لیڈر فریڈرک مرز سمیت ممتاز سیاستدانوں کو حراست میں لینے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔