جرمنی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کیخلاف قانون سازی

   

دوبارہ لاک ڈاؤن کے اقدامات پر دائیں بازو کی جماعتوں کو اعتراض،وبا کی دوسری لہر پر تشویش

برلن: جرمنی میں چہارشنبہ کو منظور کردہ اس نئے قانون کے تحت وبائی صورتحال میں لاک ڈاؤن کے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے کچھ اختیارات پارلیمان سے حکومت کو منتقل کیے گئے ہیں۔ تاہم دائیں بازو کی جماعتیں اس پر شدید اعتراض کر رہی ہیں۔یورپ میں نئے کورونا وائرس کی دوسری لہر کے ساتھ ہی کئی ممالک میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ آسٹریا میں منگل کے روز سے تمام ریستوران اور حجام کو کاروبار بند رکھنے کا کہا گیا ہے اور اب وہاں فقط انتہائی ضروری نوعیت کے سامان کی دکانیں کھلی ہیں۔ عوام سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ فقط ضروری اشیائے کی خریداری یا انتہائی ضروری کام ہی کی صورت میں گھروں سے نکلیں۔ فرانس اور بلجیم میں بھی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ جرمنی نے نومبر کے آغاز سے اختتام تک دوبارہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ روز اس نئے لاک ڈاؤن کے خلاف برلن کے قریب ایک بڑا مظاہرہ بھی ہوا۔ تاریخی برانڈن برگ دوازے کے قریب جمع افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف تیز دھار پانی اور مرچوں والے اسپرے کا استعمال بھی کیا۔ چہارشنبہ کو جرمنی میں کورونا وائرس کے انسداد سے متعلق پابندیوں پر عمل درآمد کا قانونی فریک ورک جرمن پارلیمان نے منظور کیا تھا۔ بتایا گیا ہیکہ پولیس نے اس دوران قریب 190 افراد کو حراست میں لیے ہے، جب کہ مظاہرین سے جھڑپوں میں نو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس مظاہرے میں انتہائی دائیں بازو کے شدت پسند بھی شامل تھے۔عالمی سطح پر نئے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5کروڑ 93 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اس وبا کے نتیجے میں ہونے والی مجموعی ہلاکتیں بھی 13.5 لاکھ کے قریب ہیں۔گزشتہ برس ڈسمبر میں چینی شہر ووہان میں سامنے آنے والا یہ وائرس اب دنیا کے قریب تمام علاقوں اور خطوں میں تشخیص ہو چکا ہے اور اس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وائرس کی دوسری لہر اب یورپ سمیت کئی خطوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں اب بھی امریکہ سرفہرست ہے، جہاں اب تک ایک کروڑ 13لاکھ 80 ہزار افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے، جہاں کہ اس وبا کے نتیجہ میں قریب ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس فہرست میں ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے جہاں اب تک قریب 90 لاکھ افراد میں اس وائرس کی تشخص ہو چکی ہے جب کہ مجموعی ہلاکتیں ایک لاکھ 31 ہزار کے قریب ہیں۔ برازیل میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد قریب ساٹھ لاکھ ہے، جب کہ ہلاکتیں ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد ہیں۔ہسپانوی حکام کے مطابق اسپین میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس وائرس کے مصدقہ کیسز کے اعتبار سے اسپین یورپ میں سب سے آگے ہیں۔ اسپین میں گزشتہ روز 9ہزار 400 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ اس عالمی وبا کے نتیجے میں مزید 156 ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ بات اہم ہے کہ ہلاکتوں کے اعتبار سے برطانیہ یورپ میں سب سے آگے ہے، جہاں 50 ہزار سے زائد افراد اس وبا کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں