جماعت اسلامی ہند، جدوجہد کے پچھّتر برس/از:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

   

جماعت اسلامی ہند، اس وقت مسلمانوں کی فعال، منظم نظریاتی، اور دینی تنظیم ہے ۔اس کا بنیادی کیڈر ارکان ہیں ۔وابستگان جماعت، ایثار پیشہ، بے لوث اور اپنے نصب العین کے ساتھ انتہائی مخلص ہیں۔
سیاسی واقعات ، تہذیبی وثقافتی نظریات، دینی و مذہبی تصورات، معاشرتی اور اقتصادی حالات، مخالف افکار و نظریات سے تصادم اور ان سے معاشرت پر مرتب ہونے والے اثرات ، فکری وسیاسی تناظر میں سعی و عمل، جدوجہد تحریکوں اور جماعتوں کو وجود میں لاتے ہیں ۔

مقصد
رضائے الہی اور فلاح آخرت کا حصول ہے ۔ اخلاص اور دیانت سے اللہ کے سامنے کامل سپردگی اور مکمل اطاعت ہے

نصب العین
جماعت اسلامی ہند کا نصب العین اقامت دین ہیے۔جس کا حقیقی محرک رضائے الٰہی اور فلاح آخرت ہیے ۔
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی

دین اسلام انسان کے ظاہر وباطن اور اس کی زندگی کے تمام انفرادی واجتماعی گوشوں کو محیط ہے۔عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق سے لے کر معیشت اور سیاست تک انسانی زندگی کا کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں ہیے جو اس کے دائرہ سے خارج ہو۔یہ دین جس طرح رضائے الہی اور فلاح آخرت کا ضامن ہے اسی طرح دنیاوی مسائل کے موزوں حل کے لیے بہترین نظام زندگی بھی ہے ۔ انفرادی واجتماعی زندگی کی صالح اور ترقّی پذیر تعمیر صرف اسی کے قیام سے ممکن ہے۔

طریقہ کار
اپنے نصب العین کے حصول کے لیے جماعت اسلامی ہند اصلا”کتاب الله اور سنت رسولؐ الله کی پابند ہے ۔اس کی روشنی میں اخلاقی، تعمیری، پرامن، جمہوری اور آئینی طریقے اختیار کرتی ہیے – اور ان تمام باتوں سے اور طریقوں سے اجتناب کرتی ہےجو خیر خواہی، امانت، صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں، یا جن سے فرقہ وارانہ منافرت، طبقاتی کشمکش اور فساد فی الارض رونما ہوتا ہو۔
وہ تبلیغ و تلقین اور اشاعت افکار کے ذریعے ذہنوں اور سیرتوں (شخصیت)کی اصلاح کرتی ہے۔حکیمانہ، مدبّرانہ تبلیغ اور مدلّل وموثرافہام و تفہیم ہی کا راستہ اس کی عظیم دعوت کے لیے موزوں ترین ہے۔

جماعت اسلا می ہند کا دستور اور اس کا چار سالہ پالیسی پروگرام تحریر ی شکل میں (printed)ملک کی کم از کم 5 بڑی زبانوں میں د ستیاب ہے۔پالیسی پروگرام میں دعوت دین اور ہندوستانی سماج سے متعلق کاموں کو زیادہ اہمیت دی گئی ہیے- اسلام رنگ،نسل، زبان اور اونچ نیچ کی تفریق نہیں کرتا وہ تمام انسانوں کو ایک آدم کی اولاد تسلیم کرتاہے ۔وہ سب کے لیےعدل وانصاف، فوذ وفلاح، خوش حالی، تعمیر وترقّی کا راستہ متعین کرتا ہیے۔ تاکہ سماج میں صالح اقدار کا فروغ اور تحفظ ہواور افتراق وانتشار اور تصادم وکشمکش کی فضا ختم ہو اور برادران وطن(وطنی بھائی) اسلام کی حقیقی تعلیمات سے واقف ہوں ۔

زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بند گی شرمندگی

جماعت اسلامی ہند اپنے نصب العین کے حصول کے لیے ہر چار سالہ میقات کے لئے پالیسی وپروگرام پر مشتمل واضح طور سے منصوبہ اور اہداف طے کرتی ہے۔

پروگرام اور منصوبے کی ایک جھلک

دعوت دین،ہندوستانی سماج،
اسلامی معاشرہ،
امت کا تحفظ وترقی اور تربیت و تنظیم سے متعلق کام،
قیام عدل وقسط
خدمت خلق
فکر اسلامی کا فروغ.
تعلیم
تربیت وتذکیہ
تنظیم

تنظیمی ڈھانچہ

جماعت اسلامی ہند کا تنظیمی ڈھانچہ شورائ ہے۔ اس کے سخت اور مضبوط نظم میں ارکان، کارکنان، متفقین، ہمدرد ومتوسلییں تحریک اسلامی کا کیڈر ہیں ۔

انتخاب، (الیکشن)

جماعت کی اساس (کیڈر)اس کے ارکانِ جماعت(مردوخواتین)ہیں-جس مقام پر دو ارکان جماعت موجود ہوں ، وہاں مقامی جماعت قائم ہوگی۔ جس مقام پر جماعت بڑی اور ارکان کی تعداد زیادہ ہوگی وہاں ارکان کی مقامی مجلس شوریٰLAC ہوگی۔جو امیر مقامی کو مشورہ دے گی۔
میٹرو(بڑے) شہروں میں ناظم شہر اور شہر کی شورٰیDAC ہوگی۔ضلع کی سطع پر ناظم ضلع کا تقّررہوگا۔ کئی ضلعے مل کر ناظم علاقہ اور ریاست کی سطح پر امیر حلقہ، سکریٹری حلقہ، شعبے جات کے سکریٹری، حلقہ کی شوری ZAC’ کانظم ہوتا ہے۔
مرکزی سطح پرملک بھر سےتمام ارکان جماعت، مجلس نمائیندگان جن کی تعداد متعین ہوتی ہےکا اور مرکزی مجلس شوریٰ CAC(جس کے ارکان کی تعداد بھی متعین ہوتی ہے)کو ووٹ(بیلٹ پیپر) کے ذریعہ منتخب کرتے ہیں ۔ یہی مجلس نمائیندگان ( پورے ملک سے جن کی تعداد کم وبیش 165 افراد ہیں)امیر جماعت کا چار سالہ میقات کے لیےانتخاب کرتے ہیں۔ جماعت کی 75سالہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نیا منتخب امیر جماعت، جانے والے امیر کا کوئی رشتہ دار یق بیٹا ہو۔منتخب امیر جماعت، مرکزی شوریٰ کے مشورہ سےقیم جماعت(جنرل سکریٹری) سکریٹریز،اور شعبے کے ذمہ داران کا تقّرر کرتے ہیں ۔
ہندوستانی سماج

اسلام کو بدنام کرنے، اس کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کرنےاور اسلام سے خوف پیدا کرنے کی مہم (Islamopohbia
سرگرم ہونے کے باوجود ملک کی عام سماجی فضا اب بھی اتنی مسموم نہیں ہے۔یہاں کا مزاج بالعموم رواداری اور ایک دوسرے کے احترام کے جذبات سے عبارت ہے۔فرقہ پرست جارحیت کے خلاف ہر جگہ حوصلہ مند افراد اور گروہ مسلسل سر گرم عمل ہیں ۔

جماعت اسلامی کے ارکان، کارکنان، متفقین و ہمدرد، اور پوری امّت کا سر گرم تعاون حاصل ہواور سارے مسلمان اسلام کے حقیقی پیغام اور اس کی دعوت کو صحیح خطوط پر انجام دینے لگ جائیں تو الله کی مدد ونصرت شامل حال ہوگی۔اس راہ میں مخلصانہ جدوجہد سے واضح راستے کی ہدایت بھی ملے گی۔

شوق وارفتہ نے توڑا زندگانی کا جمود

اسلامی معاشرہ
مسلمان خیر امت ہیں ۔بھلائی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور حق کی شہادت دینے والے، اعلائےکلمہ حق کے داعی ہیں۔ وہ رضوان اللہ، عباد اللہ ، انصار اللہ اور خلیفتہ اللہ ہیں۔درحقیقت و پوری انسانیت کے خیر خواہ اور راہ نما ہیں ۔

افرادامت کی قرآن وسنت سے دوری، اپنی سہل کوشی، کاہلی، بے سمتی، ، بے راہ روی، دین سے دوری، اخلاقی پستی، معاملات کی خرابی، بوہم شدید اختلافات وانتشار،ساتھ ہی ان کی تعلیمی ومعاشی پسماندگی، اور بے چارگی وبے بسی بھی دراصل نصب العین سے کمزوری کا نتیجہ ہے ۔ اس کے تدارک کے لیے دین کا جامع اور قرآنی تصور، آخرت کی جواب دہی کا احساس، رضائے الٰہی کی طلب اور محبّت واطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ بیدار کیا جائے ۔

جنت تیری پنہاں ہیے تیرے خون جگر میں

**وحدت بنی آدم، تکریم انسانیت، اور انسانی مساوات کے اسلامی تصورات اہل ملک پر واضح ہو جا ئیں ۔ملک میں اسلام سے واقفیت عام ہوجائے۔وطنی بھائی اسلامی تعلیمات کو سارے مسائل کا نجات دہندہ سمجھنے لگ جائیں۔ آپسی بھائی چارے اور میل ملاپ کی فضا بنی رہے ۔

مسلمان اسلامی تہذیب سے اپنی وابستگی کو پختہ کریں، جان ومال کے تحفظ، شہری حقوق کی حفاظت اور دینی تشخص کی بقا کے لیے مل جل کر کوشش کریں -مظالم اور زیادتیوں کا جائز طریقوں سے مقابلہ کریں- مظلوموں ا ر کمزور طبقات کے ساتھ کھڑے ہو ں۔ عدل وانصاف کے لیےان کی داد رسی کر یں ۔

اب سحر ہونے کو ہیے

ہندوستانی سماج ایک مذہبی اور روحانی سماج ہے۔باشندگان ملک کے درمیان صحت مند روایت ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی، رواداری اور احترام انسانیت کی تر غیب دیتے رہیں۔
دستور ہند کی انسانی قدریں اور آزادی فکروعمل کی جدوجہد جاری رہے۔ شہریت حقوق کا احترام ہو۔
انسانوں کی خدمت اسلامی تعلیمات کا اہم تقاضا ہے – عام انسانوں میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہو اور وہ انسانوں کی خدمت انجام دینے لگ جائیں۔۔

ریلیف ورک: خدمت خلق جذبہ انسانیت ،اخوت، مرحمت ومواسات کاعملی مظہر ہیے۔اس کام کے اندر دلوں کو جیت لینے کی بے نظیر صلاحیت ہے۔جماعت اسلامی ہند، آسمانی آفات، سیلاب، باڑھ، زلزلے اورفرقہ ورانہ فسادات، وبائ امراض، آگ سے متاثرہ بستیاں،حادثات، بے گناہ جیلوں میں قید مظلوموں کے لیے بہت منظم ومنصوبہ بندی اور سروے کے بعدبلا تفریق مذہب وملت بھائ چارگی، انصاف، اور ایثار سے سب کی امداد اور ریلیف کے کام انجام دیتی ہے ۔
کووڈ 19کرونا لاک ڈاؤن
مارچ 2020 سے جماعت نے پورے بھارت میں کروڑوں روپوں سے، مہاجر مزدوروں، مسافر وں اور بھوکوں کو کھانا کھلایا- اناج، دوائیاں، سفر کے لیے آسانی، ضرورت کا سامان تقسیم کیا ہے۔
ملک بھر میں چیریٹیبل ڈسپینسریاں ، چھوٹے بڑے اسپتال سال بھر خدمت میں لگے رہتے ہیں ۔
موثر لٹریچراور اجتماعات، درس قرآن و حدیث ، قرآن پروچن کے ذریعہ فکر اسلامی کو فروغ دینے میں مصروف کار ہیں۔
مسلمانوں میں خواندگی عام ہو، وہ دین و شریعت سے واقف ہوں ۔وہ اپنی شخصیت کو ترقی دیں، ان کی کمزوریاں دور ہوں، قرآن وسنت کے مطابق ذہنی وفکری ارتقا ہو، جذبات میں توازن اور انسانی تعلقات میں حسن سلوک کا اہتمام ہوتا رہیے۔اس کے لیے کعشوں ہے۔
صالح تبدیلی زندگی کا لازمی عنصر ہیے ۔

اگر ہم خود سوچ سمجھ کر تبدیلی کے لیے راہ ہموار نہیں کریں گے تو پھر حالات ہم کو تبدیل کر دیں گے”۔

منظم منصوبہ بند اور جدید تقاضوں کا احاطہ کرتے ہوئے مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں امت کوشش کر تی رہے تو انشاءاللہ اچھے نتائج نکلیں گے ۔

تحریک جماعت اسلامی ہند اور ملی اتحاد
جماعت اپنے نصب العین اور پالیسی کے تحت، اور فکر وعمل کا حقیقی ہدف مل جانے سے ملت میں اتحاد کی فضا پروان چڑھانے کے لیےگروہ بندی،انتشار،کشیدگی، اختلاف و افتراق کو اتحاد میں بدلنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے۔حبل اللہ جس کا شیرازہ ہے۔تقوٰی اور اطاعت خداوندی جس کی اساس ہیے، دعوت الی الخیراور امر بالمعروف ونہی عن المنکر جس کا مقصود و مطلوب ہے۔
جماعت اسلامی کی ملی اتحاد کی کوششوں کی تاریخ بہت روشن ہیے۔قومی سطح پر مسلم مجلس مشاورت، مسلم پرسنل لا بورڈ اور ریاستی وشہری سطح پر علماء کونسل ۔
کل جماعتی تنظیم اور اس طرح کے وفاق کے قیام میں جماعت کا بڑا موثر اور اہم رول رہا ہیے۔
“اتحادملت کی سبیل اس کے سوا کیا ہوسکتی ہیے کہ عملی تعاون کیا جائے”-
“مومن مومن کے لیے دیوار کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصّہ دوسرے حصّے کو تقویت پہنچاتا ہیے۔” جس شعبہ کو آپ پسند کرتے ہوں اور خود میں اس شعبہ کی کچھ صلاحیت پاتے ہوں تواس کام میں جٹ جائیے اوراپنی توانائی معروف(بھلائی) کے کاموں میں صرف کیجیے ۔

جماعت اسلامی ہند،کی سرگرمیاں اور پروگرام

دینی تعلیم، مدارس، عصری تعلیم، اسپتال، ناداروں بیواؤں، یتیموں، غعیب طلبہ کے اسکالرشپ وطیفے، اسلامی لٹریچر،* سوشل میڈیا پر ملت اسلامیہ اور اسلام کا تعارف ودفاع، اداروں کا قیام، بلاسودی سوسائٹی ،تعلیمی وظیفےاور انفارمیشن کے مراکز، *دارالمطالعہ۔-ریڈنگ روم، *اسٹدی سرکل، *پوسٹل لائبریری ( اسلام درشن کیندر) ٹول فری نمبر اور سروس برائے دعوت، مختلف زبانوں میں تجارتی کتابچے اور فولڈرس کی بڑی تعداد میں طباعت اور تقسیم۔
*ذکاتٰہ کا اجتماعی نظم وبیت المال کا قیام۔ *دارالقضاءوتصفی کمیٹیاں،
فیملی کاونسلنگ
اسلامی محققین اوردعاتہ ومبلغین کی تیاری۔
اسلامی بیداری ۔
رشتہ ونسبت کی تلاش۔
اخبارات ورسائل ۔ *ملک کی بڑی 22علاقائی وریاستی زبانوں میں ترجمہ قرآن مجید، احادیث کے انتخاب، سیرت رسولؐ اللہ صلی الله عليه وسلم اور دیگر لٹریچر،پرنٹ والیکٹرانک میڈیا*

**Associaton for Protection of Civil Rights-(APCR)
Solidarity With the Leaders of Religious & social –
**movement for peace and justice -(MPJ)
**Students Islamic organisation of India(SIO)
**Girls Islamic organisation of
India(GIO)

یوتھ ونگ
چلڈرن سرکل-
حلقہ خواتین –
ادارہ ادب اسلامی ہند۔(IAIH).
ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی (ITTI).
اسلامک تصنیفی اکیڈمی.
علاقائی ،ریاستی زبانوں کے دار الاشاعت ۔
مجلس علماء تحریک اسلامی.
آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس. اسوسیشن(AIITA).
**فورم فار مسلم ایجوکیشنل انسٹیٹو یشن ان انڈیا(FMEII).
فورم فار ڈیموکریسی اینڈ کمیونل امیٹی(FDCA).
انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس (ICIF).
میڈیکل سروس سوسائٹی آف انڈیا (MSSI).
سولیڈرٹی یوتھ موومنٹ (SYM)
رفاہی اور سماجی فلاح وبہبود کے کاموں میں تعاون
جماعت اسلامی مسلمانوں کی سب سے بڑی تعلیمی تحریک ہیے جو جزوی مکاتب سے جامعات و یونیورسٹی سطح تک تعلیمی ادارے چلاتی ہیے۔ ملک میں سیکڑوں اسکول کالج مدارس اور ہاسئلس قائم ہیں۔میٹرک تک جماعت اسلامی کا اپنا تعلیمی نصاب بھی ہیے۔
میڈیکل اور طب کے میدان مین جماعت کی رفاہی خدمات بہت وسیع ہیں۔ ملک میں چھوٹے، بڑے کئ اسپتال اور چیریٹی کے ہزاروں ادارے چلاتی ہیے۔

سیکڑوں سدبھاؤنا منچ، دھارمک مورچہ اور برادران وطن کے ملے جُلے فورم کے ساتھ سب کو ساتھ لے کر فلاحی کاموں اور بھائی چارے، رواداری، احترام انسانیت،امن وآشتی کی فضا کے لیے کوشاں رہتی ہیے۔

میڈیا ہاؤس
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اپنی قوت کے بطور استعمال کرنے میں چوکس رہتی ہیے۔علاقائ زبان میں اخبارات اور میڈیا چینلز ،سوشل میڈیا محدود ہی صحیح لیکن کام کر رہیے ہیں –

اگر یہ
سارےپلیٹ فارم ، کمیٹیاں، ادارے، فورم، گروپ آپ کی دلچسپی کے میدان ہیں، تو آپ کی صلاحیت کے مطابق آپ سے بھرپور شرکت، تعاون اورکام کرنے کے جذبے وحوصلہ کے ساتھ دعوت دین کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے آگےبڑھ کر جُٹ جانےکا تقاضہ کرتے ہیں۔

نقش ہیں سب نا تمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہیے سوداے خام خون جگر کے بغیر

حقیقتاً انسان کے کاموں میں خطا اور نقص کا ہو نا فطری امر ہیے۔ بے نقص اور معصوم عن الخطاءتو الله اور اس کے رسولؐ کی ذات ہے۔اور بہترین اسلامی معاشرہ تو اصحابِ اکرام کا زمانہ تھا۔پر سوز مخلصانہ ، نقد و تنقید ،شورائیت، اصلاح و تربیت، شفاف انتخابات، جمہوری طرزِ مشاورت اور کام کے تجربے سے بہر حال افراد اور اجتماعیت میں اصلاح اور تذکیہ کا عمل جاری رہتا ہیے۔یہ کہنا کہ سب کچھ غلط ہیے، درست بات نہیں ۔ مخالفت برائے مخالفت سے بھی کچھ حاصل نہیں، یکسر انکار اور نفی کر نے سے باطل کو طاقت فراہم کرنا اور ملّت میں مایوسی کی فضا پروان چڑھانے سے مسلمانوں ہی کو نقصان پہنچتا ہیے۔

کچھ کیے جا لے کے نام خدا
کچھ نہ کرنا بڑی خرابی ہیے
کامیابی تو کوئی چیز نہیں
کام کرنا ہی کامیابی ہیے

مرتب:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری (گوونڈی،ممبئی)