Saturday , September 21 2019

جموں وکشمیر انتظامیہ نے حزب اختلاف لیڈران کو دکھائی ہری جھنڈی، کریں گے جموں وکشمیر کا دورہ

NEW DELHI FEB 1(UNI):- N.Chandrababu Naidu, Chief Minister of Andhra Pradesh along with Congress President Rahul Gandhi and other Opposition leaders addressing a press conference in New Delhi on Friday UNI PHOTO-MLC1U

کانگریس کےسابق صدرراہل گاندھی اورکئی دیگراپوزیشن جماعتوں کے سینئرلیڈرہفتہ کو کشمیرکا دورہ کریں گے اوردفعہ 370 کے اہم التزام کوہٹائے جانے کے بعد وہاں کے حالات کا جائزہ لیں گے۔ ذرائع کے مطابق گاندھی کےعلاوہ کانگریس کے سینئرلیڈر غلام نبی آزاد اورآنند شرما بھی جارہے ہیں۔ ان لیڈروں کا دوپہرکے وقت سری نگرپہنچنے کا پروگرام ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگرسری نگرمیں داخل ہونے کی اجازت ملی توراہل گاندھی سمیت سبھی لیڈروہاں کے حالات کا جائزہ لیں گے اورمقامی لیڈروں اورباشندوں سے ملاقات کریں گے۔ اپوزیشن لیڈروں کے اس وفد میں سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری، سی پی آئی جنرل سکریٹری ڈی راجہ، آرجے ڈی کے منوج جھا، ڈی ایم کے کے تروچا شیوا، ترنمول کانگریس کے دنیش ترویدی اورکچھ دیگرجماعتوں کے لیڈرشامل ہوں گے۔

دراصل جموں وکشمیرکے گورنرستیہ پال ملک نے راہل گاندھی کو کشمیرآنے کی دعوت دی تھی، جس کے بعد راہل گاندھی ہفتہ کوسری نگرجانے والے ہیں۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے جموں وکشمیرمیں حراست میں لئے گئے لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعرات کو یہاں احتجاج  بھی کیا تھا۔ کانگریس کے سینئرلیڈر غلام نبی آزاد، سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ، سماجوادی پارٹی کے لیڈررام گوپال یادو، شرد یادو، راشٹریہ جنتادل کے لیڈرمنوج جھا اورترنمول کانگریس کے دنیش ترویدی اس احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔

جموں وکشمیرحکومت کے محکمہ اطلاعات ونشریات نے کشمیرکا دورہ کرنے جارہے لیڈروں سے اپیل کرتے ہوئے تعاون کرنے کے لئے کہا ہے اورسری نگرکا دورہ نہ کرنے کے لئے کہا۔ کیونکہ وہ دوسرے لوگوں کوپریشانی میں ڈال رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کہا گیا کہ وہ ان کی پابندیوں کی بھی خلاف ورزی کررہے ہوں گے، جوب اب بھی کئی حلقوں میں نافذ ہے۔

واضح رہےکہ حال ہی میں حکومت نے جموں وکشمیرنے جموں وکشمیرسے دفعہ 370 کے کئی التزام ہٹانےاورریاست کے زیرانتظام دو خطوں میں تقسیم کئے جانے کا قدم اٹھایا ہے۔ اس کے پیش نظرلا اینڈ آرڈربنائے رکھنےکےلئے ریاست کے کئی علاقوں میں احتیاطاً زبردست سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی اورموبائل اورانٹرنیٹ خدمات معطل کردی گئیں۔ اس کےعلاوہ سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ، محبوبہ مفتی سمیت کئی لیڈروں کو حراست میں لیا گیا اورنظربند کیا گیا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT