نتیش کمار نے کبھی مخالفت نہیں کی ۔ میڈیا میں غلط رپورٹس۔ قریبی ساتھی کی وضاحت
پٹنہ 14 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) جنتادل یو شہریت ترمیمی قانون کی تائید کے اپنے موقف پر اٹل ہے اور چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے بہار اسمبلی میں پیر کو جو بیان دیا ہے اس کا غلط مطلب نہیں لیا جانا چاہئے ۔ چیف منسٹر کے ایک قریبی رفیق نے یہ بات بتائی ۔ ریاستی وزیر برائے آبی وسائل سنجئے کمار جھا نے کہا کہ میڈیا میں یہ کہا جا رہا ہے کہ نتیش کمار نے اپنی تقریر میں شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کی ہے اور وہ اس فیصلے پر نظرثانی کیلئے تیار ہیںجبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ مسٹر جھا نے کہا کہ نتیش کمار نے جو پارٹی کے قومی صدر ہیں یہ فیصلہ کیا ہے اور پارٹی اس فیصلے پر اٹل ہے ۔ مسٹر جھا نے کہا کہ یہ غلط تاثر پیش کیا گیا ہے ۔ ہم اس وقت ایوان میں موجود تھے جب چیف منسٹر نے تقریر کی تھی ۔ ہم نے شہریت ترمیمی بل کی تائید کی تھی ۔ یہ تائید لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بھی کی گئی جس سے اس بل کو قانون بننے میں مدد ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ قانون نافذ ہوچکا ہے ۔ اب اس قانون کی مخالفت کرنے یا پھر پارٹی کے موقف پر نظرثانی کرنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے اس بل کی تائید میں ووٹ دیا تھا اور اس حقیقت کو ذہن میں رکھا تھا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ اس کا مقصد کچھ لوگوں کو شہریت دینا ہے اور کسی کی شہریت کھینچنا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب چیف منسٹر نے کہا کہ وہ مسائل پر تبادلہ خیال کیلئے تیار ہیں تو وہ اپوزیشن کی تشویش کا جواب دے رہے تھے ۔ وہ سی اے اے ‘ این آر سی یا این پی آر کی مخالفت نہیں کر رہے تھے ۔ واضح رہے کہ نتیش کمار نے کل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے یہ ریمارکس کئے تھے جب اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا تھا ۔ اس کے بعد نتیش کمار کے ایک اور قریبی ساتھی پرشانت کشور نے ٹوئیٹ کیا تھا جس سے یہ قیاس آرائیاں پیدا ہوگئی تھیں کہ جے ڈی یو اس قانون کی مخالفت کر سکتی ہے اور اپنے موقف پر نظرثانی کر رہی ہے ۔ تاہم بعد میں جنتادل یو کے ذرائع نے کہا کہ حالیہ وقتوں میں پرشانت کشور پارٹی کے خیال سے بہت کم ہی اتفاق کرتے ہیں اور اب وہ اپنی پیشہ ورانہ خدمات میں زیادہ مصروف ہوگئے ہیں۔ جنتادل یو نے شہریت ترمیمی بل کی لوک سبھا و راجیہ سبھا میں تائید کی تھی ۔