جنواڑہ میں فارم ہاوز کی انہدامی کارروائی پر حکم التواء سے ہائی کورٹ کا انکار

,

   

قانونی کارروائی کرنے حیڈرا کو ہدایت، کے ٹی آر کے فارم ہاوزکے مالک پردیپ ریڈی کی درخواست کی سماعت، حیڈرا سے انہدامی کارروائیوں کی تفصیلات طلب

حیدرآباد۔/21 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے رنگاریڈی ضلع کے شنکر پلی منڈل کے جنواڑہ ولیج میں فارم ہاوز کی انہدامی کارروائی کیخلاف حکم التواء جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ اسیٹس مانیٹرنگ اینڈ پروٹیکشن ایجنسی ( حیڈرا ) کو ہدایت دی کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او 99 کے مطابق کارروائی کرے جس میں جنواڑہ موضع میں موجود تعمیرات کو منہدم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ رئیل اسٹیٹ بزنس مین اور بی آر ایس کے قائد پردیپ ریڈی نے عدالت میں درخواست داخل کرتے ہوئے انہدامی کارروائی میں مداخلت کی اپیل کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 11 ستمبر 2019 کو رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعہ انہوں نے 1210 مربع گز پلاٹ ڈی اینڈ یو ریالیٹی وینچرس کمپنی سے خریدا اور اس کے3895.12 مربع فیٹ پر فارم ہاوز موجود ہے۔ پردیپ ریڈی نے کہا کہ گرام پنچایت سے اجازت حاصل کرتے ہوئے فارم ہاوز تعمیر کیا گیا اور یہ جائیداد عثمان ساگر کے بفرزون اور ایف ٹی ایل علاقہ سے باہر ہے۔ جنواڑہ موضع میں انہدامی کارروائی پر تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب کانگریس نے کے ٹی آر کے مبینہ فارم ہاوز کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا۔ بی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی آر نے اس کی تردید کی ہے۔ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ریونت ریڈی نے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے نیشنل گرین ٹریبونل میں درخواست داخل کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ فارم ہاوز غیر قانونی طور پر جی او 111 کے علاقہ میں تعمیر کیا گیا ہے اور یہ اراضی عثمان ساگر اور حمایت ساگر ذخائرآب کے تحت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فارم ہاوزدراصل کے ٹی آر کا ہے اور پردیپ ریڈی بے نامی مالک کی طرح ہیں۔ پردیپ ریڈی کی درخواست کی سماعت جسٹس کے لکشمن کے اجلاس پر ہوئی۔ عدالت نے حیڈرا کی انہدامی کارروائیوں کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ عدالت نے حیڈرا کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ قواعد کے مطابق کارروائی کریں۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت دی کہ حیڈرا کے حدود کے بارے میں وضاحت کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ حیڈرا کی انہدامی کارروائیوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ جسٹس لکشمن نے سوال کیا کہ حیڈرا نے اب تک کتنی جائیدادوں کو منہدم کیا اور ہر کارروائی میں کیا قانون کی پاسداری کی گئی اس بارے میں مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حیڈرا ایک خودمختار ادارہ ہے۔ درخواست گذار نے بتایا کہ انہوں نے اراضی کا سب رجسٹریشن آفس میں رجسٹریشن کیا ہے اور مجالس مقامی کی اجازت سے تعمیر کی گئی ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ پندرہ بیس سال بعد حیڈرا کا کسی بھی جائیداد کو غیر قانونی قراردے کر منہدم کردینا کہاں تک درست ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ذخائر آب کی اراضیات کے تحفظ کیلئے حیڈرا کا قیام عمل میں آیا۔ درخواست گذار نے ریاستی حکومت، حیڈرا کمشنر، کلکٹر رنگاریڈی اور دیگر عہدیداروں کو مقدمہ میں فریق بنایا ہے۔حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس اینڈ ایسیٹ پروٹیکشن ایجنسی (حیڈرا) کی جانب سے شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی انہدامی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ 1