برلن :جنوبی جرمنی میں موسلا دھار بارشوں کے سبب سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی اور ڈیم تک ٹوٹ گئے۔ طغیانی کے سبب ہزاروں افراد کا انخلا ء کرانا پڑا جبکہ کئی علاقے زیر آب آ گئے۔جرمنی میں نورڈن ڈورف کے میئر ٹوبیاس کْنس ہفتے کی صبح چھ بجے سے ہی مسلسل دباؤ میں ہیں جو تقریبا ً2,600 باشندوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی آبادی کو دریائے شمٹر کے سیلابی پانی سے بچانے کے لیے بڑی شدت سے کام کر رہے ہیں۔ وہ 300 رضاکاروں کے ساتھ مل کر خود مقامی پرائمری اسکول کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کل ہم نے 40,000 ریت کے بھرے تھیلوں سے اس کے آس پاس 240 میٹر لمبا باندھ تعمیر کیا۔ کچھ امدادی کارکن تو 40 گھنٹوں تک بغیر سوئے اپنے پیروں پر کھڑے رہے لیکن پانی کی زیادہ مقدار کے سبب اب یہ بھی ناکافی ہو گیا ہے۔ان تمام کوششوں کے باوجود وہ ایک اداس ہنسی کے ساتھ کہتے ہیں کہ پھر بھی پیر کے روز اسکول یقینی طور پر بند رہے گا لیکن جو چیز انہیں خاص طور پر مایوس کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کھیلوں کے نئے میدان کے ارد گرد سیلابی پانی کے خلاف جنگ ہار گئے ہیں، جو پاس کا ڈیم ٹوٹنے سے پوری طرح سے بھر چکا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اسکول کا پلے گراؤنڈ جس کی تعمیر پر تقریباً ایک ملین لاگت آئی تھی، پندرہ منٹ میں ہی پانی میں ڈوب گیا، پورا انفراسٹرکچر غرقاب ہو چکا ہے۔ ہمارا سیوریج کا نظام بھی کام نہیں کر رہا۔ اس لیے طلباء ٹوائلٹ تک نہیں استعمال کرسکتے۔ جیسا کہ جنوبی جرمنی کی بہت سی برادریوں کو سیلاب سے نقصان پہنچا ہوا ہے۔ نارڈن ڈورف میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ پانی کے ذخائر والے باندھ مزید پانی برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے درجنوں دیہاتوں کو خالی کرانا پڑا ہے۔ ابتدائی جائزے کے مطابق بعض مقامات پر تو گزشتہ 14 گھنٹوں کے دوران پورے مہینے کے اوسط سے بھی زیادہ بارش ہوئی ہے اور پانی اس سطح تک پہنچ گیا جو عام طور پر، شاید ایک صدی میں صرف ایک بار ایسا ہوتا ہے۔اواخر ہفتہ کو اس تباہی سے باویریا اور باڈن ورٹمبرگ خاص طور پر متاثر ہوئے ۔