جنگ بندی پر مذاکرات کیلئے اسلام آباد میں آج اجلاس

,

   

ایران اور امریکی وفود کی آمد‘ بات چیت کامیاب ہونے کی دنیا کو امید

واشنگٹن؍تہران۔9؍اپریل (ایجنسیز )ایران۔امریکہ نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کیلئے رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک اپنی اپنی فتح کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے بیچ مستقل جنگ بندی کیلئے امریکہ کے پندرہ نکاتی منصوبے کے علاوہ ایران کے دس نکاتی منصوبے پر جمعہ 10اپریل کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے جس سے دنیا کو اچھی امیدیں وا بستہ ہیں ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر نمائندوں کو پاکستان روانہ کیاہے۔ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے جس میں خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ قبل ازیں بدھ کو ہی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ان کی دعوت پر جمعہ کو امریکی اور ایرانی وفود مستقل جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے شعلے نہ صرف خطہ کو لپیٹ میں لے چکے تھے بلکہ پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رہے تھے۔وزیراعظم نے بتایا کہ ان کی درخواست پر امریکہ اور ایران دونوں نے مثبت ردعمل دیا جو پاکستان کی سفارتی سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے۔ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیلئے ایران کی مذاکراتی ٹیم جمعرات کو اسلام آباد پہنچے گی۔ رضا امیری موغادم نے ایکس پر یہ جانکاری دی۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکراتی ٹیم میں کون کون شامل ہیں۔انہوں نے لکھا کہ ایرانی وفد ایران کی طرف سے تجویز کردہ 10 نکات پر مبنی سنجیدہ مذاکرات کیلئے اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ان نکات میں ایران کا یورینیم کی افزودگی، آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا اور دیگر امور شامل ہیں ۔وائٹ ہاؤس نے بارہا ایران کی طرف سے جاری کردہ 10 نکات کو غلط قرار دیا ہے۔موغادم نے لکھا کہ ایرانی سفارتی اقدام کو سبوتاج کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت کی جانب سے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باوجود ایرانی وفد اسلام آباد آ رہا ہے۔a/y
پاکستان پر ہمیں اعتماد نہیں ……اسرائیلی سفیر
نئی دہلی ۔ 9؍اپریل ( ایجنسیز ) امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے کردار پر اسرائیل نے شبہ ظاہر کیا اور کہا ہے کہ اسے اسلام آباد کی ثالثی پر کوئی اعتماد نہیں۔ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر رووین آزار نے ایک میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔اسرائیلی سفیر نے کہا کہ وہ پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے اور ان کے خیال میں امریکہ نے اپنے مفادات کے لیے اس کی ثالثی کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔a/y
اس موقع پر انہوں نے قطر اور ترکی جیسے ممالک کے ذریعے حماس کے ساتھ امریکہ کے معاہدوں کا بھی ذکر کیا۔