تلنگانہ بھون میں پارٹی کے اہم قائدین کا اجلاس، مقامی اداروں کے انتخابات کی حکمت عملی کا جائزہ
حیدرآباد ۔ 19 نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں کانگریس کی کامیابی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بوگس ووٹنگ اور منظم انتخابی دھاندلی کی وجہ سے کانگریس کی جیت ہوئی ہے۔ آج تلنگانہ بھون میں اسمبلی حلقہ جوبلی ہلز کے اہم قائدین اور انچارجس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس اجلاس میں سابق وزرا ٹی ہریش راؤ، ٹی سرینواس یادو، پارٹی امیدوار ایم سنیتا گوپی ناتھ، سابق رکن اسمبلی پی وشنو وردھن ریڈی، سینئر قائد شیخ عبداللہ سہیل، بی آر ایس کے ارکان اسمبلی اور دوسرے قائدین موجود تھے۔ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں پارٹی کی انتخابی حکمت عملی، پارٹی قائدین اور انچارجس کی کارکردگی، نتائج کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ بی آر ایس کے استحکام اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی غوروخوض کیا گیا۔ پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کیسے کامیاب ہوئی ہے، چیف منسٹر اچھی طرح جانتے ہیں۔ پارٹی امیدوار سنیتا کی کامیابی کیلئے جی توڑ کوشش کرنے والے قائدین اور کارکنوں سے اظہارتشکر کیا۔ جی ایچ ایم سی انتخابات کی تیاریاں شروع کردینے کی پارٹی کیڈر کو ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کیلئے کانگریس نے تمام سیاسی ہتھکنڈے استعمال کیلئے سرکاری مشنری کا بیجا استعمال کیا دھاندلیاں کیں اور دوسری طرف بی جے پی نے فرقہ پرستی کو اپنایا مگر بی آر ایس پارٹی نے اپنے 10 سالہ دورحکومت کی کارکردگی پر عوام سے ووٹ مانگا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کرناٹک سے عوام کو یہاں لاکر چوری کے ووٹ ڈالے گئے۔ شیخ پیٹ اور ایرہ گڈہ ڈیویژنس میں رگنگ کی گئی۔ غم میں مبتلاء رہنے والے ہریش راؤ نے پارٹی کی کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ انہوں نے پارٹی قائدین کو مقامی اداروں اور جی ایچ ایم سی انتخابات کیلئے ابھی سے تیاریاں شروع کردینے کا مشورہ دیا۔ پارٹی کارکنوں کو کوئی بھی مشکل یا پریشانی پیش آتی ہے تو پارٹی قیادت ہمیشہ پارٹی خاندان کے ساتھ کھڑے رہے گی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ڈسمبر میں سرپنچ اور ضلع پریشد کے انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں۔ مقامی اداروں کے انتخابات کے بعد بی آر ایس پارٹی کی رکنیت سازی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا بوتھ سطح سے ریاستی سطح تک کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔2