جو کچھ ہندوستان کے مفاد میں ہے ، وہی ہندوستانیوں کے مفاد میں ہے

   


جودھپور میں ’ مذہب جوڑنے کیلئے ہے ، توڑنے کیلئے نہیں ‘ کے موضوع پر سمینار میں پروفیسر اختر الواسع و دیگر کا خطاب
جودھپور ۔ 6 ۔ اکٹوبر : ( پریس نوٹ ) : مولانا آزاد یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور اور خسرو فاونڈیشن نئی دہلی کے اشتراک سے آج ایک روزہ سمینار کا انعقاد ہوا جس کا عنوان تھا ’مذہب جوڑنے کے لیے ہے ، توڑنے کے لیے نہیں ‘ ۔ اس سمینار کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مذہب اسلام کے علاوہ ہندو دھرم ، سکھ مت ، کبیر پنتھ ، عیسائی مذہب اور جین دھرم کے مذہبی رہنما اور دانشور شریک ہوئے ۔ سمینار کی صدارت سروودے تحریک کی راجستھان میں سرگرم رہنما اور مشہور گاندھی وادی محترمہ آشا بوتھرا نے کی اور مہمان خصوصی کے طور پر خسرو فاونڈیشن کے چیرمین پدم شری پروفیسر اختر الواسع تھے۔ پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ مذہب کوئی بھی ہو وہ انسانوں کو جوڑنے کا کام کرتا ہے ۔ یہ انسان ہیں جو ایک دوسرے کے درمیان میں دراڑیں ڈالتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہندوستان کے مفاد میں ہے ، وہ ہندوستانیوں کے مفاد میں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام ہو یا کوئی بھی دوسرا مذہب ، وہ سبھی انسانوں کی محبت اور ان کے لیے صلہ رحمی کا سبق دیتے ہیں ۔ اس لیے ہمارے اپنے مفاد میں بھی ہے اور ہندوستان کے مجموعی مفاد میں ہے کہ ہم نفرتوں کی دیواروں کو توڑیں ، ایک دوسرے کے قریب آئیں ۔ انہوں نے سمینار کے انعقاد کے لیے انہیں مبارکباد دی۔ مولانا آزاد یونیورسٹی کے چانسلر الحاج محمد عتیق نے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے مذاہب بدنام ہوں اور انسانوں کو تکلیف پہنچے ۔ جودھپور کے کبیر پنتھ کے مذہبی رہنما سنت مادھو داس نے کہا کہ یہ سمینار تمام مذاہب کو قریب لانے کی بہت اچھی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کائنات میں سب سے اہم انسان ہیں اور ان کے بیچ میں دوری پیدا کرنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہیے ۔ عیسائی مذہب کی نمائندگی کرتے ہوئے فادر جتیندر ناتھ نے کہا کہ بلا شبہ مذہب جوڑنے کے لیے ہے ، توڑنے کے لیے نہیں ۔ یہی سچ ہے اور جو بھی اس کے خلاف کام کررہا ہے وہ صحیح نہیں ہے ۔ شہر قاضی سید واحد علی نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے امن و سلامتی کا نمائندہ مذہب پیش کیا اور تمام انسانوں کو محبت کا درس دینے والا بنایا اور کہا کہ تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے ۔ سکھ مذہب کی طرف سے بولتے ہوئے گرنتھی سردار جے پال سنگھ نے کہا کہ ہمیں حسد سے بچنا چاہیے ، جس کی وجہ سے انسان انسانوں سے دور ہورہے ہیں ۔ ہمیں کرم اور دھرم کی صحیح پیروی کر کے خود کو انسان ثابت کرنا چاہیے ۔ ہندو دھرم گرو مہنت رودرگری جی نے کہا کہ تمام دھرموں میں ایک ہی بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہم سچائی کی پیروی کریں اور تمام انسانوں کو اپنے اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے راشٹر دھرم کو ہی نبھانا چاہیے اور کسی مذہب کو برا نہیں سمجھنا چاہیے ۔ سابق وائس چانسلر اور مشہور جین دانشور پروفیسر سوہن راج تاتیڑ نے کہا کہ ہر مذہب نے ایک ہی تعلیم دی ہے اور وہ یہ کہ ہم اچھے انسان بنیں ۔ وہی سچا مذہبی بھی ہے جو سچا انسان ہے ۔ جب زمین ایک ، آسمان ایک ، سورج اور چاند ایک ، اور ان سب کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے تو پھر انسان کیوں ایک نہیں ہوسکتے ؟ طلبہ و طالبات کی نمائندگی کرتے ہوئے حیات خان نے کہا کہ مذہب کردار سازی کرتا ہے ، محبت سکھاتا ہے ، انسانوں کو سچا مذہب ، ہر طرح کی فکری پریشانیوں اور دباؤ سے بچاتا ہے ۔ مذہبی یکجہتی ہی اس ملک کی معاشی ترقی کی ضامن بھی ہے ۔ اساتذہ کی نمائندگی کرتے ہوئے عبداللہ خالد نے تمام مذہبی گروہوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان قوتوں سے دور رہنا چاہیے جو ہمیں الگ کرنا چاہتے ہیں ۔ آخر میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے محترمہ آشا بوتھرا نے کہا کہ آج کے دور میں ہمیں اپنے عمل سے خود مثال قائم کرنی ہوگی اور ان تمام قوتوں کو جو نفرت پھیلا رہی ہیں ، دوری پیدا کررہی ہیں ، انہیں ناکام بنانا ہوگا ۔ پروگرام کی نظامت مولانا شاہد حسین ندوی نے کی اور شکریہ یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار محمد امین نے کیا ۔پروفیسر اختر الواسع نے اسٹیج پر موجود تمام مذہبی رہنماؤں سے کہا کہ وہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ان کو بلند کر کے یہ عہد کریں کہ وہ محبت کے پیغام کو عام کریں گے ، مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے بیچ میں دوری کم کرنے کو اپنی جیسی کوشش کریں گے ، جس پر مختلف مذاہب کے تمام رہنماؤں اور اسٹیج پر موجود تمام اہم افراد نے تائید کی اور ایسا ہی کیا ۔ اس پروگرام میں مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے صدر محمد علی چندریگر ، جنرل سکریٹری نثار احمد خلجی ، خازن حاجی محمد اسحاق ، سوسائٹی کے رکن جناب اسمعیل قریشی ، ڈین اکیڈمکس عمران خان پٹھان اور کامرس ڈپارٹمنٹ کے ڈین نرنجن بوہرا شامل تھے ۔۔