اندرون 24 گھنٹے جگہ کو خالی کرنے جی ایچ ایم سی کی ہدایت
حیدرآباد۔17جون(سیاست نیوز) شہر کے فٹ پاتھ تاجرین اور سڑکوں پر کئے جانے والے غیر مجاز کاروبار کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے برخواست کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کردیاگیا ہے ۔ جی ایچ ایم سی ذرائع کے مطابق شہر حیدرآباد میں سماجی فاصلہ کی برقراری اور پارکنگ کی سہولت کی فراہمی کے علاوہ کورونا وائرس سے بچنے کے احتیاطی تدابیر کو لازمی قرار دیئے جانے کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے ایسے میں فٹ پاتھ تاجرین کو کاروبار کی اجازت فراہم نہیں کی جاسکتی کیونکہ فٹ پاتھ پر سماجی فاصلہ کی برقراری کی گنجائش نہیں ہے ۔ فٹ پاتھ پر کئے جانے والے کاروبار سے غریب کاروباری افراد کے گھر چلتے ہیں لیکن موجود حالات میں ان کے کاروبار کو برخواست کروانے کی حکمت عملی عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کا سبب بن سکتی ہے ۔ جگدیش مارکٹ میں موجود موبائل فون کے تاجرین کو جی ایچ ایم سی کی جانب سے نوٹسیں جاری کرتے ہوئے انہیں اندرون 24 گھنٹے ان مقامات سے قبضہ ختم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جو کہ عوامی فٹ پاتھ اور دکانات کے باہر ہیں۔ جگدیش مارکٹ عابڈس کے علاوہ شہر کے دیگر علاقو ںمیں بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فٹ پاتھ تاجرین کو قابضین قرار دیتے ہوئے نوٹس جاری کی گئی ہے اور انہیں اندرون 24 گھنٹہ قبضہ برخواست نہ کئے جانے پر جبری تخلیہ کا انتباہ دیا گیا ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں چھوٹے تاجرین جو اکثر ٹھیلہ بنڈی اور فٹ پاتھ پر کاروبار کرتے ہیں جی ایچ ایم سی کی اس کاروائی کے سبب انہیں تشویشناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ جی ایچ ایم سی عہدیداروں کا ادعا ہے کہ وہ سماجی فاصلہ کی برقراری اور بازاروں میں اژدہام کو روکنے کیلئے یہ کاروائی کررہے ہیں کیونکہ ان مقامات پر سماجی فاصلہ کے اصولوں کا خیال رکھے جانے کی کوئی امید نہیں ہے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے جاری کی جانے والی نوٹسوں میں فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجرین کو قابضین قرار دیتے ہوئے انہیں قبضہ خالی کرنے کی ہدایت دیئے جانے پر چھوٹے تاجرین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے شہریوں کو روزگار سے جوڑنے کی بات کی جا رہی ہے لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد چھوٹے تاجرین کے روزگار کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔