۔90 دنوں کیلئے قیدیوں کی پیرول پر رہائی، جب تک ضروری نہ ہو ملزمین کو گرفتار نہ کرے
نئی دہلی : کورونا کے خطرے کے پیش نظر سپریم کورٹ نے جیل میں بند چنندہ قیدیوں کو 90 دنوں کی پیرول پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے جیل میں قیدیوں کی تعداد فوری طور پر کم ہوگی۔ 90 دن کے بعد سبھی قیدی جیل میں واپس آجائیں گے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں سبھی ریاستوں سے ایک کمیٹی کی تشکیل کرنے کیلئے کہا ہے۔ کمیٹی طے کرے گی کہ کس قیدی کو رہا کیا جائے گا اور کس کو نہیں۔ چھوٹے موٹے جرم میں بند قیدیوں کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ملک میں کورونا وائرس کے ریکارڈ معاملات درج کئے جارہے ہیں۔ ماہرین بھی دوسری لہر کے عروج پر آنے کی وارننگ دے رہے ہیں۔ اسی درمیان ملک میں کورونا کے معاملات میں غیرمعمولی اضافے پر نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے جیلوں میں بھیڑ کم کرنے کا حکم دیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ گزشتہ سال بھی کچھ قیدیوں کو اسی طرح رہا کیا گیا تھا۔ عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن قیدیوں کو پچھلے سال وبا کے پیش نظر ضمانت یا پیرول دی گئی تھی ، ان سبھی کو پھر سے وہ سہولیت دی جائے۔ چیف جسٹس این وی رمن ، جسٹس ایل ناگیشور راو اور جسٹس سوریہ کانت کی ایک بینچ نے کہا کہ عدالت عظمی کے حکم پر بنائی گئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کی اعلی اختیارات یافتہ کمیٹیوں کے ذریعہ گزشتہ سال مارچ میں جن قیدیوں کو ضمانت دی گئی تھی ، ان سبھی کو کمیٹیوں کے ذریعہ دوبارہ غور کئے بغیر پھر راحت دی جائے ، جس سے تاخیر سے بچا جاسکے گا۔کورونا کی پچھلی لہر میں بھی سپریم کورٹ نے قیدیوں کو پیرول پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب وہ قیدی بھی جیل میں واپس آ چکے ہیں۔ اب قیدیوں کو پھر سے رہا کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ادھر ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے درمیان گزشتہ تین دنوں میں چار لاکھ سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ وہیں 24 گھنٹوں میں اس وبا سے چار ہزار سے زیادہ مریضوں کی موت ہو گئی ہے۔ تاہم 3.18 لاکھ افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی احکامات میں یہ بھی کہا کہ پولیس جب تک ضروری نہ ہو ملزمین کو گرفتار نہ کریں ۔ عدالت نے قیدیوں کو مناسب طبی امداد اور سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے ۔ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ اختیاری کمیٹیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ جرائم کی نوعیت کے اعتبار مجرمین کی نشاندہی کریں اور ان کی پیرول پر رہائی عمل میں لائیں ۔ کورونا کی وباء اور مریضوں کی تعداد کے علاوہ اموات میں اضافہ کے پیش نظر عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ اہمیت کا حامل ہے ۔۔