لندن : اعلاء عبدالفتاح کے اہل خانہ کو امید ہے کہ برطانوی شہریت ان کی جیل سے رہائی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو گی۔ بہت سے دیگر سیاسی قیدیوں کی طرح ہی عبدالفتاح کا بھی پچھلی دہائی کا بیشتر وقت جیل میں گزرا ہے۔مصر کے جمہوریت نواز معروف کارکن اعلاء عبدالفتاح کے اہل خانہ نے 11 مارچ پیر کے روز بتایا کہ اب انہیں برطانوی شہریت دے دی گئی ہے۔ اعلاء عبدالفتاح کی شخصیت سن 2011 کے انقلاب کے دوران ان کی جمہوری کوششوں کے لیے ابھر کر سامنے آئی تھی۔وہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں سے جیل میں قید ہیں اور شہریت دینے کے اس اقدام کو مصری حکومت پر دباؤ ڈالنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ انہیں کسی طرح رہا کرایا جاسکے۔ انسانی حقوق کے کارکن کو جن سخت حالات میں برسوں سے سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا ہے، اس کے خلاف بطور احتجاج انہوں نے رمضان کے مقدس مہینے کے آغاز سے ہی بھوک ہڑتال بھی شروع کر رکھی ہے۔ عبدالفتاح کی بہنوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں سے انہیں ایک ایسی کوٹھری میں قیدرکھاگیا ہے جہاں سورج کی روشنی بھی نہیں پہنچتی ہے۔ اس کوٹھری میں نہ تو کتابیں ہیں، اور نہ ہی ورزش کا کوئی سامان موجود ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ بیس ماہ کے دوران ان کی ملاقاتیں خاندان کے فرد واحد تک محدود کر دی گئی ہیں۔ وہ بھی شیشے کے ذریعے، ایک لمحہ بھی بغیر رازداری کے ہوتی ہے اور رابطے کی بھی کوئی اجازت نہیں ہے۔