حیدرآباد :۔ گورنمنٹ ہاسپٹلس میں بیڈس کی امکانی قلت کو محسوس کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی ) کی جانب سے شہر میں اے سی فنکشن ہالس کو کوویڈ کے نازک حالت مریضوں کے لیے کوویڈ 19 کیر سنٹرس کے طور پر استعمال کرنے پر توجہ دی جارہی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے مطابق ، اس کے حدود میں چھ زونس میں ہر سرکل میں فنکشن ہالس کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ وہاں مریضوں کے علاج کے لیے اضافی ڈاکٹرس اور میڈیکل اسٹاف کو مامور کیا جائے گا ۔ عہدیداروں نے کہا کہ جب سرکاری دواخانوں میں بیڈس اور آئی سی یو رومس دستیاب نہیں ہوں گے تو ان فنکشن ہالس کا استعمال کیا جائے گا ۔ چونکہ آئسولیشن مریضوں کے لیے اے سی فنکشن ہالس موزوں ہوتے ہیں ۔ اس لیے جی ایچ ایم سی نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے حدود میں 30 سرکلس ہیں اور ہر سرکل میں ڈپٹی کمشنرس کو چوکس کردیا گیا ہے کہ وہ ان کے متعلقہ علاقوں میں کوویڈ 19 کیر سنٹر کے طور پر ایک فنکشن ہال کو تیار رکھیں ۔ صرف کوکٹ پلی زون میں موجود پانچ اے سی فنکشن ہالس میں تقریبا 1100 بیڈس فراہم کئے جاسکتے ہیں ۔ وی ممتا ، زونل کمشنر ( کوکٹ پلی ) نے کہا کہ شہر میں آئی سی یو بیڈس کی مانگ میں اضافہ ہو تو فنکشن ہالس میں بیڈس اور ضروری طبی آلات کی فراہمی کے انتظامات کئے جائیں گے ۔ مریضوں کے لیے بیڈس کی قلت اور عدم دستیابی کے بعد جل پلی میونسپلٹی نے پہاڑی شریف میں ایک پریمیم فنکشن ہال کو 36 گھنٹوں کے اندر ایک کوویڈ کیر سنٹر میں تبدیل کردیا ۔ جل پلی میونسپلٹی کمشنر جی پراوین کمار نے کہا کہ اس سنٹر میں 50 بیڈس لگائے گئے ہیں ۔ سہولتیں بشمول آکسیجن ، ادویات اور ایکس رے کی سہولت مفت فراہم کی جارہی ہے ۔ ان کے مطابق اس فنکشن ہال کو ایک منی کارپوریٹ ہاسپٹل میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں کوویڈ 19 مریضوں کے لیے درکار تمام سہولتیں دستیاب ہیں ۔ میڈیکل ، میونسپل ، پولیس ڈپارٹمنٹس کی ٹیمیں چوبیس گھنٹے اس سنٹر کی نگرانی کررہی ہیں ۔۔