ندی کی ترقی کے نام پر حصول اراضیات کے اقدامات ، بی آر ایس ، عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کی مکینوں سے ملاقات
حیدرآباد۔26فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ بالخصوص مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں سیاست کا محور ’موسیٰ ندی پراجکٹ‘ بننے لگا ہے اور بیشتر تمام سیاستی جماعتیں موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ اور ندی کے دونوں جانب موجود جائیدادوں کے حصول کے لئے کی جانے والی سرکاری کوششوں کے خلاف عوام کے درمیان پہنچ کر ان کی تائید حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار کے ساتھ ہی ریاستی حکومت نے موسیٰ ندی کو لندن کی تھیمس ندی کے طرز پر ترقی دینے کے منصوبہ اور اقدامات کا اعلان کیاتھا اور اس معاملہ میں کئے جانے والے اقدامات میں کئی اہم فیصلے کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے حصول اراضیات کے اقدامات شروع کرنے کے علاوہ تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کی تیاری عمل میں لائی تھی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لئے ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے پراجکٹ کو رجوع بھی کیا ہے۔ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے سلسلہ میں شروع کئے گئے پراجکٹ کی مختلف تنظیموں اور اداروں کی مخالفت کا سلسلہ جاری ہے اور سلم بستیوں اور ندی نالوں کے قریب آباد بستیوں کے مکینوں کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم تنظیموں اور جہد کاروں نے اس پراجکٹ کی مخالفت کا آغاز کرتے ہوئے نہ صرف حکومت سے نمائندگیاں کی ہیں بلکہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے ذمہ داروں سے ملاقات کرتے ہوئے یہ استدلال پیش کیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے غریب آبادیوں کو بیدخل کرتے ہوئے اس پراجکٹ کو ترقی دینے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ابتداء میں جب ریاستی حکومت نے موسیٰ ندی کے طاس میں موجود مکینوں کو بیدخل کرتے ہوئے ان کی جائیدادیں حاصل کرتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ پرانے شہر کے علاقوں بالخصوص موسیٰ نگر‘ شنکر نگر‘ ملک پیٹ‘ واحد نگر ‘ اسد بابا نگر ‘ کشن باغ ‘ ندی موسیٰ علی گوڑہ ‘ پیٹلہ برج کے علاقوں میںندی کے طاس میں موجود مکانات کی نشاندہی کے بعد شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران مختلف سیاستی جماعتوں کے قائدین امکانی متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ان علاقوں میں پہنچ گئے تھے اور اب سن سٹی کے علاقہ میں گاندھی جی کے مجسمہ کی تنصیب کے علاوہ موسیٰ ندی کو ترقی دینے کے پراجکٹ پر عمل آوری کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے نام پر حصول اراضیات کے لئے جاری کی گئی نوٹسوں کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ ریاستی حکومت کے لئے انتہائی ابتر ہونے لگی ہے۔ ٹیپو خان برج سن سٹی سے متصل اپارٹمنٹس کو جاری کی جانے والی نوٹس کے بعد بیشتر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اس علاقہ کے مکینوں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں اس بات کا تیقن دے رہے ہیں کہ وہ حصول اراضیات کے تحت ان کی جائیدادوں کو حاصل کرنے کی کوششوں کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ سابق ریاستی وزیر مسٹر ٹی ہریش راؤنے گذشتہ ہفتہ ان مکینوں سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد عام آدمی پارٹی تلنگانہ کے نمائندوں نے بھی اس علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے مکینوں سے ملاقات کی تھی اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین نے بھی اس علاقہ کے مکینوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ حکومت تلنگانہ شہر حیدرآباد میں موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے نام پر ندی گذرنے کے تمام راستوں پر موجود جائیدادوں کے حصول کے اقدامات کی منصوبہ بندی کئے ہوئے ہے۔3