حیدرآباد 5 جون ۔ (پریس نوٹ) شہرحیدرآباد کے زائرین حج اور ہندوستان کے مختلف ریاستوں اور ساری دنیا سے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ پہنچنے والے ضیوف الرحمن کو خدا کی جانب سے فریضہ حج کے موقع کی دستیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہوئے مولاناڈاکٹر قاضی سیدشاہ سمیع اللہ حسینی بندہ نوازی سجادہ نشین درگاہ حضرت سید ملک شاہ حسینی ؒ شاہ راج پیٹھ ومشیر قانونی کل ہند جمیعۃ المشائخ نے حاجیوں سے گزارش کی کہ وہ صبر و استقامت اور سنت نبویؐ کی تکمیل کرتے ہوئے حج اور طواف کے علاوہ سعی کا کارنامہ انجام دیں۔ اسی کے ساتھ زیارت روضہ مبارک کے دوران بھی ارکان اسلامی کی تکمیل پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ حج کی تکمیل کے ذریعہ خدانے ہر حاجی کو نظریں نیچی رکھنے اور غصہ اور تکلیف سے دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔ ہرمسلمان حاجی مرد اور عورت پر لازم ہے کہ وہ توبہ اور استغفار کے علاوہ یاد خدا وندی میں حج کی ادائیگی کو کامیاب بنائے۔مولانا سمیع اللہ حسینی نے مزید کہا کہ آرام سے سکون سے حج و عمرہ کیجیے۔ صرف عمرہ کرنے والوں یاحالت احرام میں رہنے والوں کو ہی مطاف میں داخل ہونے دیا جائیگا۔ خصوصا مرد حضرات کوبغیر احرام اندر جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ اور جب بھی عمرہ کریںگے پانی کے بجائے آب زم زم پیجئے ‘ آب زم زم پینے سے بار بارطہارت کی حاجت بھی نہیںہوگی۔ جو بھی دعا ہے یاد کر لیجیے اور یاد نہیں کر سکے تو کوئی بات نہیں اردو میں دعا کیجیے۔ لیکن رکن یمانی سے لیکر حجر اسود تک آپ کو ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار وادخلنا الجنۃ مع الابرار یا عزیز یاغفارو یا رب العالمین۔یہ بات توجہ طلب ہیکہ آج کل بعض حجاج کرام طواف و سعی کے دوران چپل کا استعمال کر رہے ہیں جو کہ آداب کے خلاف ہے ‘ مناسب یہی ہیکہ چپل کا استعمال نہ کریںاسلئے کہ یہ ایک عبادت ہے۔ مدینہ شریف کی عظمت و ادب و احترام کا خاص خیال رکھیں۔وہاں کی کوئی بھی چیز کو برا نہ کہیں‘ وہاں کے پولیس وحکومتی حکام بھی آپ سے کچھ کہیں تو برداشت کیجیے بے جا گفتگو نہکریں۔جب ہم سرکار مدینہ حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ میں زیارت وسلام عرض کرنے کے لئے جائیں تو باب السلام سے باب بقیع (مغرب سے مشرق کی طرف)تک کافاصلہ صرف 200 میٹر ہے لیکن لمبی لمبی قطارکی وجہ سے یہ تقریباً 1 کلو میٹرطے کرنا ہوگا ۔قبلہ کی جانب جنوبی حصہ ہے اور دوسری جانب شمالی۔مسجد نبوی کے قبلہ رخ کی جانب سے زائرین کو اندر آنے سے روک دیا گیاہے۔ پہلے ہم لوگ باب بقیع سے نکل کر باب جبریل اور باب بلال کے پاس نماز پڑھتے تھے اورمسجد کے اندر داخل بھی ہوسکتے تھے۔ اور اب اگر مسجد کے اندر جانا ہے تو بہت لمبا تقریبا ایک کلو میٹر چل کر مسجد کے اندر باب مکہ سے داخل ہونا ہوگا۔مدینہ شریف میں جب سرکارؐ کے پاس سلام پیش کریںتوجوتے و چپل ہاتھ میں نہ رکھیں ۔ اپنے چپل کی تھیلی(BAG) ساتھ میں رکھ لیجیے اور پیٹ پر لگا ئیں۔ اگر نہیں رکھے تو چپل ہاتھ میں رکھنا پڑے گا جو کے آداب کے خلاف ہے۔ اور اگر چپل ساتھ میں نہیں تو فرش کی گرماہٹ سے آپ کے پیر محفوظ نہیںرہیںگے۔ خواتین پردے کی پابندی کریں اور مرد حضرات اپنی نظریں نیچی رکھیں۔ تھوکنے سے پرہیز کیجیے اور ٹشو پیپرز کا استعما ل کیجئے۔سرکار مدینہ کے روضہ میں زیارت کی غرض سے جب ہم حاضر ہیں تو فوٹو اور ویڈیو گرافی سے اجتناب کریں۔ ادھر اُدھر پھرنے کے بجاے ایک جگہ بیٹھ کر عبادت کریں۔ نفل نمازوں کی کثرت کریں، قرآن شریف کی تلاوت کریں اور اس کے علاوہ درود شریف اور ذکر و اذکار پڑھتے رہیں۔ جیسا کہ:حسبنا اللہ و نعم الوکیل، نعم المولی و نعم النصیر؛حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت و ھو رب العالمین۔سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔کلمہ طیبہ، استغفار ‘آیت کریمہ وغیر ہ بھی پڑھاکریں۔حج بیک نظر:حج کے پانچ ایا م ہیں: 8 ذی الحجہ تا12 ذی الحج کا پہلا دن: 8 ذی الحجہ: ظہر سے قبل منیٰ میںحاضر ہو کر ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور 9 ذی الحجہ کی نماز فجر ادا حج کا دوسرا دن: 9 ذی الحجہ: صبح تلبیہ پڑھتے ہوئے منیٰ سے عرفات کے لئے روانہ ہوجائیں۔ عرفات پہونچ کرظہر اور عصر کی نمازیں وہاں اداکریں۔ غروب آفتاب تک قبلہ رخ کھڑے ہوکر خوب دعائیں کریں ۔ غروب آفتاب کے بعدتلبیہ پڑھتے ہوئے عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوجائیں۔ مزدلفہ پہونچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت میں ادا کریں۔ رات مزدلفہ میں گزاریں۔ حج کا تیسرا دن: ۱۰ ذی الحجہ: مزدلفہ میں نماز فجر ادا کرکے دعائیں کریں۔ طلوع آفتاب سے قبل منیٰ کیلئے روانہ ہوجائیں۔ کنکریاں بھی اٹھالیں۔ منی پہونچ کر بڑے اور آخری جمرہ پر ۷ کنکریاں ماریں۔ تلبیہ پڑھنا بند کردیں۔ قربانی کریں۔ بال منڈوائیں یا کٹوائیں۔ احرام اتاردیں ‘ غسل کرکے نیا لباس پہنیں۔ طواف زیارت یعنی حج کا طواف اور حج کی سعی کریں۔ حج کا چوتھا اور پانچواں دن: 11 و 12 ذی الحجہ: منی میں قیام کرکے تینوں جمرات پر زوال کے بعد سات سات کنکریاں ماریں۔ 12 ذی الحجہ کو کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ سے بعد عصر جاسکتے ہیں۔ اپنے وطن کو لوٹنے سے قبل طواف رخصتی کریں۔ مزید یہ کہ حج یا عمرہ جانے سے پہلے چلنے کی مشق کیجئے ۔کیوںکہ وہاں پر یعنی حرمین شریفین (مکہ اور مدینہ شریف) میں زیادہ چلنا پڑے گا۔ ساتھ میں اپنی دوا وغیرہ رکھ لیجیے خصوصاً شوگرو بی پی کے مریض اور جوڑوں کی مالش کیلئے تیل یا مرہم وغیرہ۔ڈاکٹر سید سمیع اللہ حسینی نے بطور خاص حاجیوں سے تقویٰ اختیار کرنے اور دوسرے انتظامی امور پر مباحث سے پرہیزکرنے کی گزارش کے ساتھ کہا کہ حج کے موقع پر خدا کو بندہ کی صبرورضا والی زندگی حد سے زیادہ پسند ہے چنانچہ حج سے واپسی کے بعد بھی اسی طرز سے بقیہ زندگی گزارنے کی خواہش کرتے ہوئے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ضرور حاجی اس پر کاربند ہو کر خداوررسول کی رضا اور سنت نبوی کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرینگے۔ انہوں نے بارگاہِ خدا وندی میں دعا کی کہ ہر حاجی کو صحت و سلامتی کے ساتھ اپنے وطن لوٹنے اوربقیہ تمام عمرعبادت میںگزارنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔ خواتین اپنے مسائل کے متعلق جاننے کیلئے یہ موبائل نمبر(9959950168) پر ربط یاواٹس ایپ کر سکتی ہیں ۔