مکہ مکرمہ سے 20 قافلے مدینہ منورہ پہنچ گئے، خادم الحجاج کی غیر ذمہ داری اور طویل فاصلے پر قیام سے مشکلات
حیدرآباد۔ 5 ستمبر (سیاست نیوز) حج 2019ء کے حیدرآباد امبارگیشن پوائنٹ سے روانہ پانچ ریاستوں کے حجاج کرام کی واپسی کا 7 ستمبر کو آغاز ہوگا۔ تلنگانہ کے حجاج کرام کے تین قافلے 7 ستمبر کو مدینہ منورہ سے ایرانڈیا کی خصوصی پروازوں کے ذریعہ شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچیں گے۔ پہلا قافلہ رات دیڑھ بجے، دوسرا قافلہ رات دیر گئے ساڑھے 3 بجے اور تیسرا قافلہ دوپہر 2 بجے دن حیدرآباد پہنچے گا۔ سعودی عرب سے انڈین ایرلائنس کی پروازوں میں دیگر ریاستوں کو کئی گھنٹوں کی تاخیر کے پیش نظر ایرانڈیا کے حکام ابتدائی تین قافلوں کی آمد کا حقیقی وقت بتانے سے گریز کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ حیدرآباد کو کرناٹک کے عازمین کا پہلا قافلہ جو 31 اگست کو پہنچا تھا، وہ فلائٹ تقریباً 5 گھنٹے تاخیر سے پہنچی۔ ملک کی دیگر ریاستوں کو مدینہ منورہ سے ایرانڈیا کی پروازیں 15 تا 24 گھنٹے تاخیر سے چلائے جانے کی اطلاع ہیں۔ تلنگانہ کے حجاج کرام کے علاوہ کرناٹک، مہاراشٹرا، آندھراپردیش اور تاملناڈو کے حجاج بھی مدینہ منورہ سے حیدرآباد واپس ہوں گے۔ 22 قافلوں کے ذریعہ8300 سے زائد حجاج کرام کی واپسی ہوگی۔ اسی دوران انڈین حج مشن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حجاج کرام کے 20 قافلے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ پہنچ چکے ہیں۔ ان میں حیدرآبادی رباط میں مقیم حجاج کرام کے چھ قافلے شامل ہیں۔ باقی دو قافلے کل 5 ستمبر اور آخری قافلہ 6 ستمبر کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگا۔ وطن واپسی کے سلسلہ میں حجاج کرام کا آخری قافلہ 15 ستمبر کو شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچے گا۔ ایرپورٹ کے حج ٹرمینل میں حجاج کرام کی آمد کے موقع پر انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی مسیح اللہ خان اور ایگزیکٹیو آفیسر بی شفیع اللہ آئی ایف ایس نے آج ایرپورٹ کا دورہ کیا۔ حکام کی جانب سے حجاج کرام کے رشتہ داروں کے لیے پارکنگ کی مفت سہولت فراہم کی جائے گی۔ کسٹم کلیئرنس اور ایمگریشن کے دوران حج کمیٹی کے والنٹرس تعاون کریں گے۔ وضوع خانے، ٹائلٹس اور نماز گاہ کا انتظام کیا گیا ہے۔ بارش کے امکانات کو دیکھتے ہوئے حج ٹرمینل کے بیرونی حصہ میں واٹر پروف شیڈ نصب کیا گیا۔ حجاج کرام کو ایرپورٹ پر فی کس 5 لیٹر زم زم کا کیان حوالے کیا جائے گا۔ اسی دوران مکہ مکرمہ میں واپسی کے منتظر حجاج کرام نے انتظامات کے سلسلہ میں کئی شکایات کی ہیں۔ کشن باغ سے تعلق رکھنے والے سید خواجہ معز اشرفی اور دوسروں نے ویڈیو ریکارڈنگ تلنگانہ حج کمیٹی کو روانہ کی جس میں خادم الحجاج کے بارے میں شکایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی خادم الحجاج مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران حجاج کرام کو دستیاب نہیں رہے۔ مکتب 49 میں تین حجاج کا انتقال ہوا اور کئی افراد بیمار ہوئے لیکن کسی خادم الحجاج نے پہنچ کر معلومات حاصل نہیں کی۔ حجاج کرام نے شکایت کی کہ منیٰ میں جو ناشتہ سربراہ کیا گیا تھا، وہ روٹیاں دو سال قبل پیک کی ہوئی تھیں اور حجاج نے سوکھی روٹیاں استعمال نہیں کیں۔ حجاج کی شکایت ہے کہ مدینہ منورہ میں طویل فاصلے پر رہائش کا انتظام کیا گیا اور انہیں پانی بھی خریدکر پینا پڑرہا ہے۔ حجاج کرام نے خادم الحجاج کا سسٹم ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جن خادم الحجاج خدمات میں لاپرواہی کی ان کی تنخواہوں سے سفر کے اخراجات حاصل کیے جائیں۔