لندن : سارہ ایورارڈ کی یاد میں مشعل روشن کرنے کی تقریب کے دوران حراست میں لی جانے والی دو خواتین کے وکلا کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان سے معافی مانگ لی ہے اور انہیں ہرجانہ ادا کر دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق خواتین کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میٹرو پولیٹن پولیس نے اب خواتین کی طرف سے سول دعووں کو نمٹا دیا ہے، انہیں ہرجانے کی ادائیگی اور معافی نامہ جاری کر دیا ہے۔دو سال قبل ایک برطانوی پولیس افسر نے سارہ ایورارڈ نامی خاتون کو کورونا وائرس کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے الزام میں ’غلط طور پر‘ گرفتار کر کے جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا تھا۔مارکیٹنگ ایگزیکٹیو سارہ ایورارڈ کو مارچ 2021 میں گھر جاتے ہوئے لندن میں سڑک سے اغوا کر لیا گیا تھا اور کچھ دن بعد ان کی لاش تقریباً 50 میل (80 کلومیٹر) دور جنگل سے ملی تھی۔لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے ایلیٹ ڈپلومیٹک پروٹیکشن یونٹ میں کام کرنے والے 48 سالہ وین کوزن نے خاتون کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کا اعتراف کیا تھا۔