صداقت نامہ آمدنی میں سالانہ آمدنی کی شرط کو کم کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔8جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے ذریعہ علاج و معالجہ کی رقم حاصل کرنے کیلئے درکار صداقتنامہ ٔ آمدنی کے حصول میں دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے حدود میں رہنے والے مکینوں کو جاری کئے جانے والے صداقتنامۂ آمدنی ایک لاکھ 20ہزار سے زائد کے جاری کئے جا رہے ہیں جو کہ چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے حصول کے لئے داخل کی جانے والی درخواستوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے بلکہ چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے حصول کے لئے داخل کی جانے والی درخواست کے ساتھ 60ہزار سے کم سالانہ آمدنی کا صداقتنامہ ٔ ناگزیر ہوتا ہے اور اگر چیف منسٹر خود کسی درخواست گذار کو امداد جاری کرنا چاہیں تو ایسی صورت میں ایک لاکھ روپئے تک آمدنی رکھنے والوں کو سی ایم آر ایف سے امداد جاری کی جاتی ہے لیکن مجموعی اعتبار سے سی ایم آر ایف میں درخواست داخل کرنے کے لئے لازمی ہے کہ 60 ہزار سے کم آمدنی کا صداقتنامہ داخل کیا جائے یا سفید راشن کارڈ کی نقل داخل کی جائے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں موجود تحصیلدار کے دفاتر میں موجود عہدیداروں کا کہناہے کہ وہ 60 ہزار سے کم آمدنی کا صداقتنامہ جاری کرنے سے قاصر ہیںکیونکہ شہری حدودمیں رہنے والوں کی آمدنی 60 ہزار تک ہی ہو ایسا ممکن نہیں ہے لیکن بعض خاندان ایسی کسم پرسی میں زندگی گذار رہے ہیں جنہیں جانچ کے بعد صداقتنامہ جاری کیا جا رہاہے۔ چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے ذریعہ امداد کے حصول کیلئے درخواست داخل کرنے کے اہل افراد جو کہ ضرورت مند بھی ہیں انہیں بھی کئی مرتبہ تحصیلدار کے دفاتر سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ ان دفاتر میں 1لاکھ سے کم کا صداقتنامہ جاری کرنے سے بھی انکار کیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ شہر میں رہنے والوں کی اس حد تک کم آمدنی کا تصور محال ہے۔دونوں شہروں میں موجود تحصیلدار کے دفاتر میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں نے بتایا کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے شہری حدود میں رہنے والوں کیلئے آمدنی کی حد میں اضافہ کرتی ہے تو ایسی صورت میں اس مسئلہ کا حل نکالا جاسکتا ہے لیکن 60ہزار کی محدود آمدنی کے صداقتناموں کی اجرائی مشکل ہوتی ہے اسی لئے ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر کو اس سلسلہ میں جائزہ لیتے ہوئے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ سی ایم آر ایف کے ذریعہ امداد کے حصول کے خواہشمندوں کو درپیش مسائل حل کئے جاسکیں۔