ایس سی طبقہ کے دباؤ میں اضافہ، کانگریس اور بی جے پی سے نمٹنے کی حکمت عملی
حیدرآباد۔/8 اگسٹ، ( سیاست نیوز) حضورآباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے دلت رائے دہندوں کو راغب کرنے کیلئے جو حکمت عملی اختیار کی ہے اس کے نتیجہ میں کابینہ میں دلت چیف منسٹر کا مطالبہ شدت اختیار کرنے لگا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق دلت بندھو اسکیم کے اعلان کے بعد سے چیف منسٹر کے حق میں جو مہم شروع کی گئی اس کے زیر اثر دلت تنظیموں نے اس مطالبہ میں شدت پیدا کردی ہے کہ جس طرح پہلی مرتبہ دلت کو ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ دیا گیا تھا اسی طرح پھر ایک بار کسی دلت نمائندہ کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرتے ہوئے چیف منسٹر دلتوں سے اپنی ہمدردی کو ثابت کریں۔ کابینہ سے ایٹالہ راجندر کی 2 مئی کو علحدگی کے بعد سے کابینہ میں توسیع کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں تاہم بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر حضورآباد ضمنی چناؤ تک کسی طرح کی توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔ حضورآباد الیکشن کے بعد کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ کے سی آر کابینہ میں ڈاکٹر راجیا اور کڈیم سری ہری کو مختصر مدت کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ حکومت کی دوسری میعاد میں کے سی آر نے کسی کو بھی ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ نہیں دیا۔ اب جبکہ دلت طبقات کی تائید حاصل کرنے کیلئے ٹی آر ایس کے علاوہ بی جے پی اور کانگریس نے بھی ایڑی چوٹی کا زورلگادیا ہے لہذا ٹی آر ایس کے اندرونی حلقوں سے چیف منسٹر کو تجویز پیش کی گئی کہ کسی دلت کو ڈپٹی چیف منسٹر فائز کیا جائے تاکہ اپوزیشن کو دلتوں کے استحصال کا موقع نہ ملے۔ ایٹالہ راجندر کی علحدگی کے بعد سے بی سی طبقات اپنی نمائندگی میں اضافہ کے خواہاں ہیں۔ راجندر کا تعلق بی سی طبقہ سے ہے لہذا ان کی جگہ کسی بی سی نمائندہ کی شمولیت کا امکان ہے۔ کابینہ میں جن طبقات کی نمائندگی کم ہے ان میں کما، ایس ٹی، ایس سی اور مسلم طبقات شامل ہیں۔ ریڈی طبقہ کے 6 وزیر کابینہ میں موجود ہیں جبکہ بی سی طبقہ کے وزراء کی تعداد 3 ہے۔