حلال سرمایہ کاری کے نام پر ایک اور دھوکہ

   

حیدرآباد۔/25 جولائی، ( سیاست نیوز) حلال سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی کے الزام میں سعیدآباد پولیس نے یونیورسل اسلامک ریسرچ سنٹر (UIRC) کی سسٹر بشریٰ بیگم اور دیگر کے خلاف دو علحدہ مقدمات درج کئے ہیں۔ ذرائع کے بموجب بشریٰ بیگم نے مبینہ طور پر کئی افراد سے حلال سرمایہ کاری کے نام پر لاکھوں روپئے کی رقومات حاصل کی اور ہر ماہ 3 فیصد منافع دینے کا وعدہ کیا اور اس ضمن میں ڈپازٹس حاصل کئے۔ عرشیہ سلطانہ اور دیگر سرمایہ کاروں نے پولیس اسٹیشن سعیدآباد میں ایک تحریری شکایت درج کرائی جس میں یہ الزام عائد کیا کہ سسٹر بشریٰ بیگم اور ان کے شوہر برادر سراج الرحمن نے سرمایہ کاری کے نام پر رقومات حاصل کی ہیں اور وہ منافع کی رقم دینے سے قاصر رہے۔ بعض خواتین سعیدآباد پولیس اسٹیشن پہنچ کر انسپکٹر کے سرینواس سے نمائندگی کی اور اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 420 ( دھوکہ دہی) 406 (اعتماد شکنی ) اور سیکشن V (تلنگانہ ڈپازیٹرس ایکٹ ) کے تحت دو علحدہ مقدمات درج کئے ہیں۔ پولیس نے بشریٰ بیگم اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر جاری کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ متاثرہ سرمایہ کاروں کی جانب سے درج کرائی گئی۔ شکایت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ 90 لاکھ کی دھوکہ دہی کا شکار ہوئے ہیں۔ یو آئی آر سی کے ذمہ داران سے ربط پیدا کرنے پر یہ بتایا گیا کہ برادر سراج الرحمن کا ان کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور مارچ 2018 میں وہ اس سے علحدہ ہوگئے ہیں۔ اسی طرح برادر سراج الرحمن سے بھی ربط پیدا کئے جانے پر انہوں نے کہا کہ بشریٰ بیگم سے ان کی پانچ ماہ قبل ہی علیحدگی ہوچکی ہے اور وہ ڈپازٹس یا کسی بھی رقمی لین دین سے بے خبر ہیں۔ انہوں نے کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ دونوں مقدمات کو مزید تحقیقات کیلئے سنٹرل کرائم اسٹیشن ( سی سی ایس ) منتقل کیا جاسکتا ہے۔