امیدواری کے مسئلہ پر فریقین میں ٹھن گئی ۔ اکبر اویسی کی 3 گھنٹے مصالحتی کوشش بے نتیجہ رہی ، یاقوت پورہ سے احمد پاشاہ کی اِننگز ختم
حیدرآباد۔/22 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) پرانے شہر کی سیاست میں مجوزہ اسمبلی چناؤ میں اہم تبدیلیوں کا امکان ہے کیونکہ مجلس کو پرانے شہر کے 2 اسمبلی حلقہ جات چارمینار اور یاقوت پورہ کے امیدواروں کا انتخاب کرنا آسان نہیں رہے گا۔ پارٹی قیادت نے پرانے شہر کے دونوں اسمبلی حلقہ جات کے موجودہ ارکان اسمبلی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دونوں ارکان اسمبلی کو اس کی اطلاع دے دی۔ چارمینار سے ممتاز احمد خاں اور یاقوت پورہ سے احمد پاشاہ قادری کو تبدیل کرنے کی اطلاعات کے ساتھ ہی دونوں نشستوں کیلئے کئی دعویدار سرگرم ہوچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صدر مجلس اسد اویسی نے دونوں ارکان اسمبلی کو آخری میعاد کا اشارہ دیتے ہوئے امکانی امیدواروں کی کامیابی کیلئے کام کرنے کی خواہش کی۔ ممتاز احمد خاں 1994 سے مسلسل اسمبلی کیلئے منتخب ہورہے ہیں اور پہلی مرتبہ وہ مجلس بچاؤ تحریک کے ٹکٹ پر یاقوت پورہ سے منتخب ہوئے تھے بعد میں انہوں نے مجلس میں شمولیت اختیار کرلی جس کے بعد انہیں مسلسل ٹکٹ دیا گیا اور گذشتہ مرتبہ یاقوت پورہ کے بجائے چارمینار سے امیدوار بنایا گیا۔ دوسری طرف احمد پاشاہ قادری کو ناسازی مزاج کی بنیاد پر انتخابی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت کے فیصلہ نے حلقہ اسمبلی چارمینار میں سیاسی ماحول کو گرمادیا اور ممتاز احمد خاں کے حامی روزانہ کثیر تعداد میں ان سے ملاقات کرکے دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے پر دباؤ بنارہے ہیں۔ ممتاز احمد خاں پارٹی قیادت کے فیصلہ سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ قیادت سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے بعد حامیوں سے مشاورت میں مصروف ہیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی طئے کی جائے۔ ممتاز احمد خاں نے شرط رکھی ہے کہ اگر انہیں ٹکٹ نہیں دیا جاتا تو کم از کم ان کے فرزند کو ٹکٹ دیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر مجلس نے کہا تھا کہ پارٹی قابل نوجوانوں کو امیدوار بنانا چاہتی ہے جس پر ممتاز احمد خاں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر ان کے فرزند بھی قابل اور نوجوان ہیں۔ ممتاز احمد خاں کی ناراضگی اور ان کے حامیوں کی بڑھتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے مجلسی قیادت نے فلور لیڈر اکبر اویسی کو مصالحت کیلئے روانہ کیا۔ اکبر اویسی آج دوپہر ممتاز خاں کی قیامگاہ پہنچے اور 3 گھنٹے سے زائد بات چیت کی اور یہ گفتگو دونوں کے درمیان رہی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اکبر اویسی نے ممتاز احمد خاں کو ٹکٹ کی دعویداری ترک کرنے کی خواہش کی جس پر ممتاز خاں نے کہا کہ وہ صحت کے اعتبار سے فٹ ہیں اور دوبارہ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر پارٹی نے نوجوانوں کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے تو ان کے فرزندان بھی قابل ہیں اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ تین گھنٹے سے زائد کی مساعی ناکام ثابت ہوئی اور اکبر اویسی یہ کہتے ہوئے خالی ہاتھ لوٹ گئے کہ اس بارے میں وہ صدر مجلس سے بات کریں گے۔ اکبر اویسی کی ممتاز احمد خاں کی قیامگاہ پہنچنے کی اطلاع سارے حلقہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ممتاز احمد خاں کے حامی بڑی تعداد میں جمع ہوگئے۔ ملاقات کے بعد ممتاز خاں نے حامیوں کو بتایا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں ۔ اگر مجلسی قیادت یکطرفہ فیصلہ کرتی ہے تو وہ حامیوں سے مشاورت کے بعد کوئی قدم اٹھائیں گے۔ چارمینار اسمبلی حلقہ کے ٹکٹ کے مسئلہ پر مجلسی قیادت اور رکن اسمبلی ممتاز خاں میں ٹھن گئی ہے اور مجلسی کارکنوں کو اندیشہ ہے کہ کہیں یہ صورتحال ٹکراؤ کا رُخ اختیار نہ کرجائے اور پھر 1994 کے حالات کا اعادہ نہ ہو۔ ممتاز خاں کا یہ استدلال ہے کہ انہوں نے 1994 میں مجلس کے برے حالات میں ساتھ دینے کیلئے مجلس میں شمولیت اختیار کی اور ہر نازک موڑ پر ڈھال بن کر کھڑے رہے۔ گذشتہ تین برسوں سے پارٹی قیادت کے رویہ سے انہیں شکایت ہے اور اس مرتبہ وہ کسی بھی حالت میں مقابلہ کرنے کی تیاری میں دکھائی دے رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مجلسی قیادت کیا ممتاز خاں کے دباؤ کو قبول کرے گی یا ممتاز خاں اپنے موقف سے دستبردار ہوجائیں گے۔ موجودہ صورتحال پر کانگریس گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔