تل ابیب : 3جولائی ( ایجنسیز ) اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے حماس کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، اگرچہ حماس کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالثوں کی نئی تجاویز پر غور کر رہا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے تاحال امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے ساتھ طے شدہ بات چیت سے ایک ہفتہ قبل انہوں نے حماس کو اس کی بنیاد تک تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ قطر اور مصر کی ثالثی میں پیش کی گئی تجاویز پر ’بات چیت کے لیے مشاورت کر رہی ہے‘۔اسرائیل نے غزہ پٹی میں 21 ماہ سے جاری جنگ میں اپنی فوجی کارروائیوں میں توسیع کی ہے جہاں 20 لاکھ سے زائد افراد کے لیے سنگین انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ چہاشنبہ کو اسرائیلی فورسز نے 47 افراد کو ہلاک کر دیا جبکہ فلسطینی حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں غزہ کے شمال میں واقع انڈونیشیا کے ہسپتال کے ڈائریکٹر مروان السلطان بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے منگل کو یہ کہا تھا کہ اسرائیل نے معاہدہ کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے اور انہوں نے حماس پر زور دیا کہ وہ 60 دن کی جنگ بندی کو قبول کرے ۔ حماس نے ایک بیان میں بتایا کہ وہ تازہ ترین تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کا مقصد ’ایک ایسے معاہدہ پر پہنچنا ہے جو جارحیت کے خاتمے، غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلاء اور غزہ پٹی میں ہمارے لوگوں کی فوری مدد کرنے کی ضمانت دیتا ہے ۔ غزہ کی شمالی سرحد کے قریب اشکیلون شہر میں اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو آزاد کر دیں گے اور ہم حماس کو ختم کر دیں گے، یہ مزید نہیں ہو گا۔