عثمان ساگر کے دروازے بھی کھل جائیں گے
حیدرآباد۔ 14اکٹوبر(سیاست نیوز) حمایت ساگر کے 14دروازوں کو کھولتے ہوئے پانی کے اخراج کے اقدامات موسیٰ ندی کی گذرگاہوںکے قریب سڑکوں کو تالاب میں تبدیل کردیا ۔حمایت ساگر میں جمع ہونے والے پانی کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ آبرسانی کی جانب سے رات 12بجے 2 دروازے کھولے گئے تھے اور صبح تک ذخیرۂ آب میں پانی کی آمد کو دیکھتے ہوئے مزید 12 دروازوں کو کھول دیا گیا ۔ عہدیداروں نے گذشتہ شب 1300 کیوزک پانی کے اخراج کا فیصلہ کیا تھا لیکن بارش کے پانی کے جمع ہونے کی رفتار کو دیکھتے ہوئے مزید دروازوں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حمایت ساگر میں پانی کی آمد کے سلسلہ میں عہدیداروں نے بتایاکہ 21450 کیوزک پانی آرہا ہے جبکہ 22145 کیوزک پانی کے اخراج کیا جا رہاہے۔ عثمان ساگر کی سطح آب میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور کہاجا رہاہے کہ اگر عثمان ساگر کی سطح آب بھی مکمل ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں عثمان ساگر کے دروازے بھی کھولے جا سکتے ہیں۔ عہدیدارو ںنے بتایاکہ حمایت ساگر کے 17 کے منجملہ 14دروازوں کے ذریعہ پانی کے اخراج کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں اور آئندہ چند گھنٹوں کے دوران اگر بارش کی رفتار کے علاوہ ذخیرۂ آب کی سطح میں ہونے والے مسلسل اضافہ میں کمی واقع ہوتی ہے تو دروازو ں کو بند کرنے کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جاسکتاہے۔حمایت ساگر کا پانی موسیٰ ندی میں خارج کئے جانے کے سبب موسیٰ ندی پر سے گذرنے والے تمام پلوں پر عوام کی کثیر تعداد ندی کے بہاؤ کو دیکھنے کے لئے جمع ہوگئی ۔ املی بن بس اسٹیشن کے علاوہ چادر گھاٹ اور کشن باغ ‘ بہادر پورہ‘ پرانا پل ‘ موسیٰ نگر اور کئی مقامات پر ندی کا پانی سڑکوں پر بہنے لگا جس کے سبب محکمہ پولیس کی جانب سے راستوں کے رخ تبدیل کردیئے گئے اور عوام کو ان سڑکوں پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی جن سڑکوںپر ندی کا پانی بہہ رہا تھا ان سڑکوں پر پانی کے اخراج کے اقدامات ناکام ہوتے نظر آئے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں نے بتایاکہ پانی کی نکاسی کے فیصلہ کے ساتھ ہی رود موسیٰ کی گذرگاہوں پر موجود مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے تھے لیکن اس کے باوجود کئی علاقوں میں حمایت ساگر سے خارج کئے گئے پانی کے داخل ہونے کی شکایات موصول ہوتی رہی ۔ شہر کے جن مقامات پر مکانات میں پانی داخل ہوا وہاں سے شہریوں کو محفوظ نکالنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔