کابینہ میں نوجوانوں کو مواقع، ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدہ پر ہریش راؤ کا نام زیر غور
حیدرآباد: دوباک اور گریٹر حیدرآباد انتخابات میں کمزور مظاہرے اور پھر نئی دہلی کے دورہ کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پارٹی کے استحکام پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ فارم ہاؤز میں قیام کرتے ہوئے چیف منسٹر روزانہ پارٹی کے سینئر قائدین اور وزراء سے مشاورت کرتے ہوئے تلنگانہ میں پارٹی میں نئی طاقت پھونکنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ٹی آر ایس میں برے پیمانہ پر تنظیمی تبدیلیوں کے خواہاں ہیں، اس کے علاوہ جنوری میں ریاستی کابینہ میں رد و بدل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ نئی دہلی سے واپسی کے بعد سے یہ اندازہ کیاجانے لگا ہے کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان مستقبل میں سخت مقابلہ درپیش رہے گا ۔ بی جے پی کی قومی قیادت نے 2023 اسمبلی انتخابات کی منصوبہ بندی ابھی سے شروع کردی ہے جبکہ کے سی آر تلنگانہ میں بی جے پی کے بڑھتے قدموں کو روکنا چاہتے ہیں۔ 2014 اور پھر 2018 ء میں کامیابی کے بعد کے سی آر نے وزراء اور سینئر قائدین کو ملاقات کا بہت کم موقع دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزراء کو 2 تا 3 ماہ کے دوران ایک مرتبہ بھی ملاقات کا وقت نہیں دیا جاتا۔ ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کا بھی یہی حال ہے۔ دوباک اور حیدرآباد میں پارٹی کے ناقص مظاہرہ کے بعد چیف منسٹر نے وزراء اور سینئر قائدین کو ملاقات کا موقع دیا ۔ انہوں نے اپنے مشیروں سے آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کی ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے کئی قائدین کو انفرادی طور پر بات چیت کیلئے مدعو کیا اور ریاست بھر میں پارٹی کے موقف کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ وہ عوامی نمائندوں اور وزراء کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ طلب کر رہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں حکومت اور پارٹی کے درمیان تال میل کی کمی کے سبب ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوئی جس سے عوام میں ناراضگی پیدا ہوئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کابینہ میں رد و بدل کے علاوہ پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدہ پر ہریش راؤ اور ای راجندر کو مقرر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ غیر کارکرد وزراء کو تبدیل کرتے ہوئے نوجوانوں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ اسی دوران چیف منسٹر کے عہدہ پر کے ٹی راما راؤ کو نامزد کرنے کی اطلاعات پارٹی حلقوں میں تیزی سے گشت کر رہی ہے۔ کے سی آر کے علاوہ کے ٹی آر نے بھی کھمم اور ورنگل میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کے علاوہ گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشستوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔