250 یونٹ مفت برقی اسکیم سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔ بارہا نمائندگیاں بھی بے اثر
حیدرآباد۔28۔مئی ۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کیا واقعی سیکولر ہے!اگر ہے تو مسلم دھوبی اور مسلم حجام کو حکومت کی مفت 250 یونٹ برقی اسکیم سے کیوں محروم رکھا گیا ہے جبکہ اس اسکیم کا آغاز دھوبی اور حجام کیلئے کیا گیا تھا اور اس پر 2021 سے عمل جاری ہے لیکن مسلم دھوبی ؤ مسلم حجام اس اسکیم سے محروم کئے گئے ہیں ۔ حکومت اور وزراء کے علاوہ مسلم قائدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ریاست میں مسلمانوں کو دیگر طبقات کے مساوی حقوق ہیں اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ’نمبرون‘ سیکولر چیف منسٹر ہیں ۔ حکومت کی دھوبی اور حجام کیلئے 250 یونٹ مفت برقی کی اسکیم سے مسلم دھوبیوں کے اخراج اور مسلم حجام کے اخراج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ میں حکومت ناکام ہے یا پھر ان قوتوں کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے جو مخالف مسلم ہیں۔ 250یونٹ مفت برقی اسکیم حکومت نے بال کاٹنے والوں اور کپڑے دھونے والوں کیلئے شروع کی تھی تاکہ انہیں مراعات فراہم کئے جاسکیں لیکن اس اسکیم میں مسلم دھوبیوں اور حجاموں کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ان کی متعدد نمائندگیوں پر کوئی جواب دیا گیا بلکہ انہیں زبانی کہہ دیا گیا ہے کہ وہ اگر ان پیشوں سے تعلق رکھتے بھی ہیں تو انہیں اس سے استفادہ کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ تلنگانہ میں مسلم دھوبیوں کی تعداد پر انکشاف ہوا کہ 1000ایسے خاندان ہیں جو کپڑے دھونے کے پیشہ سے وابستہ ہیں لیکن انہیں کوئی مدد حکومت سے فراہم نہیں کی جا رہی ہے بلکہ 250یونٹ مفت برقی اسکیم میں بھی انہیںشامل نہیں کیا گیا جو مذہب کی بنیاد پر ان سے ناانصافی کے مترادف ہے۔ صدر مسلم دھوبی اسوسیشن تلنگانہ جناب عبدالحمید کہناہے کہ انہیں اس پیشہ کے سبب بی سی زمرہ میں شامل کیا گیا اور وہ کانگریس دور میں فراہم تحفظات سے مستفید ہورہے ہیں لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت نے دھوبی اور نائی (حجام) کیلئے 250 یونٹ مفت برقی کا جو اعلان کیا اس پر 2021 سے عمل جا ری ہے لیکن اس میں مسلم دھوبی کو شامل نہیں کیا گیا۔اسی طرح حیدرآباد وسکندرآباد میں مسلم حجام بھی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن انہیں پیشہ کی بنیاد پر مراعات سے محض مسلمان ہونے کی بناء پر محروم رکھا جارہا ہے۔حکومت کی اسکیم کے مطابق صرف دھوبی گھاٹ پر نہیں بلکہ ہئیر کٹنگ سیلون‘ لانڈری شاپ پر 250 یونٹ مفت برقی فراہم کی جانی چاہئے لیکن اس اسکیم کو ایک مخصوص طبقہ کیلئے جاری رکھنا اور کسی کو مذہب کی بنیاد پر اسکیم سے محروم کیا جانا تعصب کی علامت ہے۔