حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی اقلیتی بہبود کے عہدیداروں میں ہلچل

   

عہدوں پر برقراری کی پیروی، محکمہ میں داخلہ کیلئے کئی عہدیدار تیار، کانگریس ارکان اسمبلی اور قائدین سے ربط
حیدرآباد۔/5ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی عہدیداروں میں بہتر عہدوں یا پھر موجودہ عہدوں پر برقراری کی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ انتخابی نتائج کی اجرائی کے ساتھ ہی محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں میں تعینات عہدیدار کانگریس کے سینئر قائدین سے ربط میں آگئے اور اپنی پسند کے پوسٹ پر فائز کرنے کی سفارش کی۔ اطلاعات کے مطابق اقلیتی بہبود کے مختلف اداروں میں موجود عہدیداروں کے علاوہ دیگر محکمہ جات کے اقلیتی عہدیدار بھی کانگریس ارکان اسمبلی اور سینئر قائدین سے ربط میں ہیں۔ ڈپارٹمنٹ میں موجود عہدیدار کسی طرح خود کو برقرار رکھنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں جبکہ دیگر محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے عہدیدار چاہتے ہیں کہ اقلیتی بہبود کے اداروں میں انہیں خدمت کا موقع دیا جائے۔ تلنگانہ میں اقلیتی عہدیداروں خاص طور پر کیڈر عہدیداروں کی کمی کے نتیجہ میں ایک ایک عہدیدار کو کئی اضافی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی، اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کی ذمہ داری بی شفیع اللہ کے تحت ہے جبکہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی اضافی ذمہ داری خود سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل سنبھالے ہوئے ہیں۔ وقف بورڈ کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر خواجہ معین الدین انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی منیجنگ ڈائرکٹر کے عہدہ پر کانتی ویسلی فائز ہیں جنہیں حال ہی میں آئی اے ایس کا درجہ دیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت میں اقلیتی اداروں پر مخصوص عہدیداروں کا کنٹرول رہا اور حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی وہ اپنی موجودگی کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس حکومت کی جانب سے اقلیتی اداروں کے امور کی جانچ کے اندیشہ کے تحت کئی عہدیدار اپنے طور پر واپسی کی تیاری کررہے ہیں۔ اپنے پیرنٹ ڈپارٹمنٹ میں واپسی کے ذریعہ وہ خود کو تحقیقات سے بچا سکتے ہیں۔ بعض عہدیدار ڈپارٹمنٹ میں اپنی گرفت کھونا نہیں چاہتے اور مختلف سطح پر پیروی کرتے ہوئے اقلیتی بہبود میں برقراری کے خواہاں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ اور اقامتی اسکول سوسائٹی کے معاملات میں کانگریس حکومت سنجیدہ ہے اور دونوں اداروں کے کئی امور کی جانچ ہوسکتی ہے۔ اقلیتی بہبود کے اداروں سے وابستہ سیکنڈ گریڈ عہدیدار اور ملازمین حکومت کی تبدیلی سے خوش ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کئی برسوں سے من مانی کرنے والے عہدیداروں کو فوری تبدیل کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق عہدیداروں نے اپنی خامیوں اور غلطیوں کی پردہ پوشی کیلئے فائیلوں میں ضروری ترمیمات کا آغاز کردیا ہے تاکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت حاصل نہ ہو۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی اور بعض سینئر قائدین سے ربط قائم کرتے ہوئے عہدیدار اپنا اپنا ایجنڈہ پیش کررہے ہیں تاکہ کسی بھی صورت میں انہیں برقرار رکھا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انتہائی کم بجٹ والے محکمہ میں خدمات انجام دینے سے متعلق عہدیداروں کی دلچسپی کئی سوال کھڑے کرتی ہے۔ بجٹ کی کمی کے باوجود بے قاعدگیوں کے ذریعہ رقومات حاصل کرنے کے عادی عہدیدار محکمہ چھوڑنا نہیں چاہتے۔دراصل اقلیتی بہبود کے اداروں میں گذشتہ دس برسوں کے دوران کئی اسکام درپردہ انجام دیئے گئے جس میں عہدیداروں کے ساتھ ساتھ برسراقتدار پارٹی کے قائدین بھی ملوث بتائے جاتے ہیں۔