حیدرآباد، انفراسٹرکچر میں ترقی کی نئی سمت گامزن

   

حیدرآباد ۔ 18 ستمبر (سیاست نیوز) وہ دن چلے گئے جب دونوں شہروں حیدرآباد اور سکندرآباد میں ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانے کیلئے سفر میں ہر جنکشن پر ٹریفک ہجوم اور ٹریفک جام کے مسائل کے باعث مشکل اور دشواری پیش آتی تھی۔ ریاستی حکومت کے فلیگ شپ پروگرام، اسٹریٹجک روڈ ڈیولپمنٹ پلان
(SRDP)
سے شہر میں لوگوں کے سفر کرنے کے انداز میں تبدیلی آگئی ہے۔ روڈ انفراسٹرکچر کو بڑھاوا دینے اور دیرینہ زیرالتواء ٹریفک مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں حکومت کے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ حیدرآباد میں تبدیلی لانے والے کئی اقدامات میں ایس آر ڈی پی کو ایک اہم پروگرام سمجھا جاسکتا ہے۔ ریاستی حکومت نے حیدرآباد میں بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے جیسے محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی، ٹریفک کی نگرانی میں بہتری، سفر کے وقت کم کرنے، سفر کی رفتار میں اضافہ کرنے اور اس طرح فضائی آلودگی کو کم کرنے کیلئے چند سال قبل ایس آر ڈی پی پروگرام بنایا تھا۔ اس جامع حکمت عملی کا مقصد نہ صرف ٹریفک مسائل کو کم کرنا ہے بلکہ شہر میں مستقبل میں ٹریفک کی ضرورت کیلئے انفراسٹرکچر پیدا کرنا بھی ہے۔ شہر میں ہجوم کو کم کرنے کیلئے انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کے ساتھ اہم سڑکوں کی مرمت کرتے ہوئے انہیں CRMP کے تحت بہتر بنایا گیا۔ مین روڈس پر ٹریفک ہجوم میں مزید کمی کیلئے نئے لنک روڈس بنائے گئے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کی جانب سے ایس آر ڈی پی کو شروع کرنے کے بعد شہر کی سڑکوں میں بڑی تبدیلی ہوئی ہے۔ مادھاپور میں کیبل برج کے علاوہ عہدیداروں نے شہر کے مختلف مقامات پر 22 فلائی اوورس، انڈرپاسیس، روڈ اووربریجس اور روڈ انڈر بریجس تعمیر کئے ہیں۔ فلائی اوورس سے انڈرپاسیس، گریڈ سیریٹرس، بڑے کاریڈرس اور روڈ اووربریجس تک کی تعمیر سے کئی بڑے کاریڈرس میں ٹریفک ہجوم میں کمی ہوئی اور کئی مقامات کے درمیان سفر کا وقت کم ہوگیا۔ ایس آر ڈی پی کا مقصد بڑے کاریڈرس اور گہماگہمی کے مراکز جیسے جوبلی ہلز، ہائی ٹیک سٹی، کوکٹ پلی، پنجہ گٹہ، عابڈس، باچوپلی، چارمینار، ایل بی نگر، چندرائن گٹہ، سکندرآباد، اپل، ای سی آئی ایل، الوال، کوم پلی اور جیڈی میٹلہ کا احاطہ کرنا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں تعمیر کئے گئے فلائی اوورس، انڈریاسیس اور گریڈ سپریٹرس سے کئی مقامات پر جیسے پنجہ گٹہ، مادھاپور، مائینڈ اسپیس، گچی باؤلی، جوبلی ہلز، ہالی ٹیک سٹی اور بائیو ڈائیورسٹی جنکشن وغیرہ پر ٹریفک کے دیرینہ مسائل حل ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ پروگرام حیدرآباد کو چنائی، ممبئی اور کولکتہ کے بعد فلائی اوورس کا شہر بنانے میں معاون ہوگا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 29,695 کروڑ روپئے تخمینہ لاگت کے ساتھ ایس آر ڈی پی بنایا گیا۔ فنڈفلو کی اساس پر کم سے کم حصول اراضی کے ساتھ ایس آر ڈی پی کاموں کو ترجیح دی گئی ہے اور درکار رقم بانڈس کی اجرائی اور میقاتی قرضہ جات کے حصول کے ذریعہ فنڈس اکٹھا کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے فراہم کی جارہی ہے۔ SRDP کے تحت 54 جنکشنس پر فلائی اوورس اور گریڈ سپریٹرس تعمیر کئے جائیں گے۔ ایس آر ڈی پی کے تحت بڑی کشش مادھاپور میں درگم چیرو کیبل برج ہے جو 184 کروڑ روپئے کی تخمینی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس سے جوبلی ہلز اور مائنڈاسپیس اور گچی باؤلی کے درمیان فاصلہ میں دو کیلو میٹر کی کمی بھی ہوگئی ہے۔