حیدرآبادی تہذیب کو سلام، حیدرآباد مجتوں کا شہر : شاعرہ شویتا سنگھ

   

جناب زاہد علی خان اور جناب عامر علی خان سے ماسکو میں مقیم شاعروں کی ملاقات
حیدرآباد ۔ 3 اکٹوبر (سیاست نیوز) زبان اردو میں جو مٹھاس جو کشش ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ دنیا بھر میں ایسے کروڑوں لوگ ہیں جو اردو کے عاشق ہیں۔ کبھی نظموں، غزلوں اور کبھی نغموں غرض اردو ادب کی مختلف اصناف انہیں اپنا مداح اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ یہی وجہ ہیکہ اردو کے دامن میں بلالحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل و علاقہ ہر کوئی بڑے شوق سے اپنا لیتا ہے اور اس کی چاشنی سے محظوظ ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سیاست سے بات کرتے ہوئے ممتاز شاعرہ شویتا سنگھ اوما نے کیا جو ماسکو میں مقیم ہیںاور وہاں Creative Paradise نامی ایک کمپنی چلاتی ہیں۔ وہ یکم ؍ اکٹوبر کو شہر علم و ادب حیدرآباد میں انجمن محبان اردو تلنگانہ کے زیراہتمام منعقدہ اندرا گاندھی یادگار عالمی مشاعرہ میں شرکت کیلئے آئی ہوئی تھیں۔ پیام امن کے زیرعنوان اس مشاعرہ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ سید مسکین احمد صدر انجمن محبان اردو تلنگانہ نے مشاعرہ کی نگرانی کی اور جناب لطیف الدین لطیف نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ شویتا سنگھ نے مشاعرہ میں اپنی خوبصورت آواز دلوں کو چھونے والے ترنم اور طبعیت کو خوشگوار احساس سے دوچار کرنے والے پراثر کلام کے ذریعہ یادگار تاثر چھوڑا۔ محترمہ شویتا سنگھ اوما نے دفتر سیاست پہنچ کر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان اور نیوزایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان سے ملاقات کی۔ سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بچپن سے ہی انہیں اردو کا شوق تھا۔ والد بہار پولیس میں تھے۔ اردو سے ان کی قربت دراصل کالج کے دور سے بہت زیادہ بڑھ گئی۔ وہ کہتی ہیں کالج میں وہ اسٹیج پر زیادہ رہا کرتی تھی۔ اساتذہ بھی یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ آپ کا تلفظ بھی ٹھیک ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شویتا سنگھ اوما نے بتایا کہ وہ جون ایلیا، پروین شاکر، بشیربدر جیسے شعراء کا کلام بڑے شوق سے پڑھا اور سنا کرتی تھی۔ کبیر اور رومی کو بھی پڑھا ہے۔ بہار کے مظفرپور سے تعلق رکھنے والی شیویتا ایک ڈیزائنر بھی ہیں۔ انہوں نے حیدرآبادی تہذیب یہاں کے ماحول، حیدرآبادیوں کی محبت، مروت، ایثار وخلوص اور مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ ادب شناسی کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اس شہر اور یہاں کے لوگوں کی کرم فرمائی اور شعرفہمی سے بہت متاثر ہوئی ہیں۔ وہ اپنے ساتھ ماسکو حیدرآبادیوں کا پیار ان کی محبت اور غیرمعمولی مہمان نوازی لے جارہی ہیں۔ اس ملاقات کے موقع پر سید مسکین احمد اور لطیف الدین لطیف بھی موجود تھے۔ شویتا سنگھ اوما نے ایک اور استفسار پر بتایا کہ روسی یونیورسٹیز میں اردو پڑھائی اور سکھائی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ روحانیت میں بہت زیادہ دلچسپی لیتی ہیں۔ شویتا نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان کو صوفیانہ کلام سنایا۔ انہوں نے اپنے مخصوص لب و لہجہ میں روزنامہ سیاست اور ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی ملی و قوم خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ روزنامہ سیاست دنیا بھر میں حیدرآباد کی پہچان ہے۔H/M