حیدرآباد 6 مئی ( سیاست نیوز ) حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ مارکٹ کی گرم بازاری کو سال 2023-24 میں دھکہ لگا ہے کیوں کہ ماہ اپریل کیلئے جائیداد رجسٹریشنس میں کافی کمی ہوئی ہے ۔ گذشتہ ماہ ، حیدرآباد میں رہائشی جائیدادوں کے 4398 یونٹس کے رجسٹریشنس ہوئے جن کی مالیت 2230 کروڑ روپئے ہے ۔ اپریل 2021 اور 2022 کے مقابل یہ رجسٹریشنس کم ہیں کیوں کہ ان برسوں میں بالترتیب 5903 اور 5366 رجسٹریشنس ہوئے تھے ۔ نائٹ فرینک کے ڈیٹا میں یہ کہا گیا ۔ جب گذشتہ 16 مہینوں یعنی جنوری 2022 اور اپریل 2023 کے درمیان جائیدادوں کے رجسٹریشن کا تجزیہ کیا گیا تو اپریل 2023 کے دوران سب سے کم رجسٹریشنس ہوئے ۔ مارچ میں حیدرآباد میں 6959 جائیدادوں کے رجسٹریشنس ہوئے ۔ ایک ماہ کے وقت میں شہر میں رجسٹریشنس میں 2561 یونٹس کی کمی ہوئی ۔ حیدرآباد ریسیڈنشیل مارکٹ میں شہر حیدرآباد ، میڑچل ملکاجگیری ، رنگاریڈی اور سنگاریڈی ریجنس شامل ہیں ۔ ضلع سطح پر اس تجزیہ میں کہا گیا کہ مکانات کی فروخت کے رجسٹریشنس میڑچل ، ملکاجگیری ڈسٹرکٹ میں 47 فیصد اور اس کے بعد رنگاریڈی ڈسٹرکٹ میں 38 فیصد ریکارڈ کئے گئے ۔ رئیلٹرس نے جائیداد رجسٹریشنس میں گراوٹ کو فلیٹس کی اونچی قیمتوں سے منسوب کیا ہے ۔