2500 سے زائد گھر سوئمنگ پل میں تبدیل ، زندگی کی جمع پونجی پانی میں ڈوب گئی ، آنکھوں میں صرف آنسو باقی رہ گئے
تقریباً 4 لاکھ خاندانوں کا کم از کم 50 ہزار سے 5 لاکھ روپئے تک نقصان ، سینکڑوں خاندان جسم کے کپڑوں تک محدود
حیدرآباد :۔ گریٹر حیدرآباد میں صدی کی دوسری بڑی بارش و سیلاب کے قہر سے 1500 سے زائد کالونیاں اور بستیاں پانی میں ڈوب گئے ۔ گذشتہ تین تا چار دن سے بارش تو نہیں ہوئی مگر آج بھی کئی کالونیاں اور بستیاں پانی میں محصور ہیں ۔ پانی کی نکاسی کے بعد ملبہ ، کیچڑ ، کچرا وغیرہ جگہ جگہ پھیلا ہوا ہے ۔ کئی سینکڑوں خاندان ایسے ہیں جن کے پاس جسم پر موجود ہی کپڑے بچے ہیں ۔ متاثرین میں کئی ایسے خاندان ہیں جنہیں کم از کم ایک تا پانچ لاکھ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ ایسے متاثرین کی تعداد 4 لاکھ خاندان سے زیادہ ہے ۔ حکومت نے بارش کے تمام متاثرین کے لیے فی خاندان 10 ہزار روپئے کی امداد جاری کررہی ہے ۔ مگر یہ انتہائی کم ہے ۔ متاثرین کی جانب سے حکومت کے اس فیصلہ پر اعتراض کیا جارہا ہے ۔ عوام جو بھی مل رہا ہے وہ لے رہے ہیں ضرور مگر توقع کے مطابق امداد نہ ملنے کی شکایت کررہے ہیں۔ بڑے پیمانے کی بارش و سیلاب سے شہر حیدرآباد کو ہزاروں کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ مگر غریب عوام بھی اس کی زد میں آگئے ہیں ۔ ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی پانی میں بہہ گئی ۔ کئی ایسے غریب خاندان ہیں جنہوں نے اپنی لڑکیوں کی شادی بیاہ کے لیے قرض پر جہیز کا سامان خریدا تھا ۔ وہ بھی پانی کی نذر ہوگیا ۔ پانی کے گھروں میں داخل ہوتے ہی دیکھتے ہی دیکھتے گھریلو اشیاء چاول ، پکوان کی اشیاء ، الکٹرک اشیاء ، کپڑے سب کے سب تباہ و برباد ہوگئے ۔ پانی کے تیز بہاؤ میں بائیکس ، آٹوز اور کاریں بھی بہہ گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ جو بھی ساز و سامان بچے ہیں وہ کیچڑ میں لت پت ہوگئے ہیں ۔ کئی متاثرین نے بتایا کہ ان کے گھر میں کچھ نہیں بچا ہے ۔ ٹی وی ، فریج ، لیاب ٹیاپس اور دوسری الکٹرک اشیاء ناکارہ ہوگئے ہیں ۔ ساتھ پلنگ بستر ، ڈائننگ ٹیبل ، ڈریسنگ ٹیبل ، کتابیں ، اسنادات ، پاسپورٹس ، آدھار کارڈس ، ووٹرس شناختی کارڈ اور دوسری دستاویزات پوری طرح پانی میں ڈوب گئے ہیں ۔ گھر میں جمع پونجی ، الماریاں اور گھر کے دیگر مقامات پر رکھے ہوئے تمام اشیاء ناکارہ ہوگئے ہیں ۔ دو دن کی بارش نے جہاں زندگی بھر کی جمع پونجی کو نقصان پہونچایا وہیں امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔ یہی تجارتی مراکز کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہونچا ہے ۔ کئی لوگوں کے ساز و سامان ڈوب گئے صرف آنکھوں میں آنسو باقی رہ گئے ہیں ۔ متاثرین حکومت کے امداد کے منتظر ہیں ۔۔