سابق ایم پی ونود کمار کا وزیر قانون کو مکتوب، ججس کی تعداد میں اضافہ کا مطالبہ
حیدرآباد۔یکم اگست (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سابق رکن پارلیمنٹ بی ونود کمار نے مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرشاد کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ججس کی تعداد کو 31 سے بڑھاکر 42 کرنے اور حیدرآباد میں سپریم کورٹ بنچ کے خلاف کی خواہش کی۔ ونود کمار نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 31 ججس کی تعداد کو بڑھاکر 34 کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ زیر التواء مقدمات کی تعداد کے اعتبار سے ججس کی تعداد میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں 58669 مقدمات زیر التواء ہے اور روزانہ ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے انہوں نے کئی مرتبہ ججس کی تعداد میں اضافہ کی نمائندگی کی تھی۔ 1998 ء میں سپریم کورٹ کے ججس کی تعداد کو 18 سے بڑھاکر 26 کیا گیا تھا، اس کے بعد 2009 ء میں یہ تعداد 31 کی گئی۔ مرکزی کابینہ نے کل ججس کی تعداد کو 34 کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکز کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے لیکن زیر التواء مقدمات کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ججس کی تعداد کم از کم 42 ہونی چاہئے ۔ ونود کمار نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ نے اپیل کرنے کیلئے جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے عوام کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہیں نئی دہلی کا سفر اور دیگر اخراجات پر کافی خرچ ہورہا ہے۔ سپریم کورٹ کے وکلاء بھاری رقومات وصول کرتے ہیں۔ ان حالات میں سپریم کورٹ کے ذریعہ عوام کو انصاف رسانی دشوار ہوچکی ہے۔ ان حالات کے باوجود جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والی اپیلوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ سپریم کورٹ پر مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے جنوب میں بنچ کا قیام ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں حیدرآباد میں سپریم کورٹ بنچ کے قیام کی تجویز پیش کی ۔ اس فیصلہ سے نہ صرف سپریم کورٹ پر مقدمات کا دباؤ کم ہوگا بلکہ جنوبی ہند کی ریاستوں کے عوام دہلی کے سفر سے بچ جائیں گے اور مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی ہوگی۔ ونود کمار نے کہا کہ جنوب میں سپریم کورٹ بنچ کے قیام کے لئے حیدرآباد انتہائی موضوع مقام ہے جہاں تمام تر بنیادی سہولتیں موجود ہیں اور یہ جنوبی ریاستوں کے عوام کے سفر کے لئے سہولت بخش ہے۔