حیدرآباد پوری دنیا میں سب سے بڑا ادبی مرکز

   

دہلی میں حیدرآباد کے شعراء کا استقبال ، تہنیت اور مشاعرہ

حیدرآباد ۔ 20 ستمبر ۔ ( راست ) سلسلہ ادبی محفل کے زیر اہتمام ریور اسپورٹس کلب کے ہال میں حیدرآباد سے تشریف لائے نامور شعرا کے اعزاز میں استقبالیہ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت استاد شاعر جناب طالب رامپوری اور نظامت پروفیسر افضل منگلوری نے کی۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروف شاعر جناب منگل نسیم نے شرکت کی۔ اسی موقع پر جناب طالب رامپوری کے شاگرد حشمت بھاردواز کی شاعری کے مجموعے ’’سفر میں ہوں‘‘ کا رسم اجر بھی مہمانوں کے ذریعے عمل میں آیا ۔ اس موقع پر بیرونی مہمان جناب جلیل نظامی حیدر ا ٓبادی، ڈاکٹر طیب پاشا قادری حیدر آبادی کا شاندار استقبال تنظیم کے اراکین کی طرف سے مومنٹو شال اور گلدستہ پیش کر کے کیا گیا۔ اس موقع پر ناظم مشاعرہ پروفیسر افضل منگلوری نے جلیل نظامی حیدر آبادی کی شاعری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موصوف کو صرف اردو شاعری پر ہی دسترس حاصل نہیں ہے بلکہ انھوں نے عربی، ہندی، پوربی زبانوں میں بھی غزلیں کہہ کراردو شاعری کا نام روشن کیاہے۔طیب پاشاہ قادری پورے ملک میں اور بیرون ملک حیدرآباد کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد صرف ہندوستان نہیں بلکہ پوری دنیا میں ادب کا سب سے بڑا مرکز ہے جو ہمارے ملک کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ کنوینر سپنا احساس نے تما م مہمانوں اور حاضرین کے استقبال کے ساتھ شاندار ضیافت کی۔ جناب حشمت بھر زواج کی کے مجموعے ’’سفر میں ہوں‘‘ پر جناب طالب رام پوری مشہور ناظم مشاعرہ جناب معین شاداب اور سپنا احساس نے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس مشاعرے کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ ناظم مشاعرہ افضل منگلوری نے تمام شعراء پر فی البدہیہ اشعار کے ذریعے سے دعوت سخن دی اور ہر موضوع پر تازہ اشعار سنا کر محفل کو زندہ اور تابندہ بنا دیا۔ مشاعرے میں فوزیہ افضال ، سرفراز احمد ، خرم نور ، نوشابہ نور وغیرہ نے بھی اپنا کلام سنایا ۔