حیدرآباد : گھر پر زیرعلاج کوویڈ مریضوں کیلئے زیادہ آکسیجن کو دستیاب بنانے کی ضرورت پر توجہ دیتے ہوئے حیدرآباد کی اسٹارٹ اپ کمپنی The Phi Factory نے ایک آکسیجن پیدا کرنے والے کٹ کو فروغ دیا ہے جس کا نام پراجکٹ وائیوپترا ہے۔ اس کمپنی کے معاون فاؤنڈر اور پارٹنر پراوین گورکھوئی نے کہا کہ یہاں فی کس میڈیکل آکسیجن سپلائی اور میڈیکل اٹینشن میں کمی ہے۔ انتظار یا ہاسپٹلس کے درمیان ٹرانزٹ کے دفتران آکسیجن کانسینٹریٹرس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کی قیمت تقریباً 90,000 روپئے ہوتی ہے اور وہ دستیاب بھی کم ہوتے ہیں۔ آکسیجن سلینڈرس (جن کی قیمت 3,500 تا 5,500 روپئے) کا وصول اور انہیں ریفل کرنا تھکانے والا پروسیجر ہوتا ہے۔ اس لئے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے Phi فیکٹری نے ایک ان ۔ سیٹو آکسیجن مینوفکچرنگ مائیکرو ریئکٹر کو فروغ دیا ہے۔ اس میں ایک کیٹلسٹ کا ہائیڈروجن پیروکسائیڈ کے ساتھ اصل جزو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی تیاری میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ (H202) کو اصل جز کے طور پر اس لئے لیا گیا کیونکہ یہ مارکٹ میں بہت دستیاب ہے۔ اسے سنیٹائزرس میں اہم جزو کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور اس کی قیمت بھی نسبتاً کم ہے۔ یہ ڈیوائس پورٹیبل ہے اور 10 لیٹر فی منٹ آکسیجن کے ساتھ دو لوگوں کیلئے خدمات انجام دے سکتا ہے۔ 20 لیٹرس کے کنزیومیبل لکویڈ کے ساتھ اس کی ابتدائی قیمت 2,500 روپئے ہے۔ یہ ایک شخص کو 12 گھنٹے تک بچانے کیلئے کافی ہے۔ خالی ہوجانے پر کنزیومیبلس کو 20 لیٹرس کے ریفل کینس سے بدلا جاسکتا ہے جس کی قیمت 1,500 روپئے ہوتی ہے۔ پراوین نے کہا کہ ’’بڑی تعداد میں کٹس کو دستیاب بنانے کی خواہاں دیگر کمپنیوں کو ہم ڈیزائن دینے کیلئے تیار ہیں۔ اسے آکسیجن کی بڑے پیمانہ پر تیاری کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔