D-8 وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خطاب
استنبول : پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے فلسطین کے خلاف اسرائیلی وحشت و بربریت کو روکنے کے لئے مشترکہ فرنٹ قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔ترکیہ کی میزبانی میں کل استنبول کے صدارتی دولماباہچے ورکنگ آفس میں منعقدہ D-8 ہنگامی وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب میں ڈار نے کہا ہے کہ غزہ میں جو المیہ اس وقت درپیش ہے اس کا قدوکاٹھ خیال کی حدوں سے باہر ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ قابض اسرائیلی فوج 40 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل اور ہزاروں کو زخمی کر چْکی ہے”۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے ہی مقبوضہ فلسطین میں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے متعلقہ فیصلوں کی رْو سے، منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کی حمایت کرتا چلا آیا ہے۔ ہم، تمام مقبوضہ عرب زمین سے اسرائیلی انخلاء ، فلسطینی عوام کے ناگزیر حقوق کی واپسی اور فلسطینی مہاجرین کی اپنے وطن واپسی سمیت 1967 سے قبل کی سرحدوں میں اور القدس کے دارالحکومت والی آزاد ریاست کی اپیل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو خوفناک شکل میں قتل کیا جا رہا اور ان کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کو دنیا سے کاٹ کر الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔ ان سب ناانصافیوں کے مقابل خاموش رہنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہمیں اپنے فلسطینی بھائیوں کی خاطر کھڑے ہونا اور اسرائیلی وحشت و بربریت کو روکنے کے لئے ایک مشترکہ محاذ قائم کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ غزہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔استنبول میں ڈی۔ ایٹ ممالک کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہاکہ غزہ میں نہتے عوام کو بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے، غزہ میں غیر معمولی واقعات پیش آ رہے ہیں ،جن کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے۔اسرائیلی قابض افواج کیہاتھوں 40 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور 81 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں، کئی فلسطینی جان لیوا زخموں کا شکار ہے یا طویل عرصے تک معذوری کا سامنا کررہے ہیں۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ پوری دنیا فلسطینی خواتین اور بچوں کیاندھا دھند قتل کا تماشہ دیکھ رہی ہے، اسرائیل عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق غزہ میں فوری طور پر اپنے مظالم روکے۔آخر میں غیر معمولی اجلاس پر اسحاق ڈار نے جمہوریہ ترکیہ اور وزیر خارجہ حاقان فیدان کا اس بامعنی اجلاس کے اہتمام پرشکریہ ادا کیا۔
