بین الاقوامی عدلیہ کانفرنس سے وزیر اعظم نریندر مودی کا خطاب
نئی دہلی۔22فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ تمام چیلنجوں کے درمیان آئین کے تینوں ستونوں عدلیہ، مقننہ اور ایکزیکیوٹیو نے توازن قائم رکھتے ہوئے ملک کو مناسب راستہ دکھایا ہے ۔مسٹر مودی نے بین الاقوامی عدلیہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہندستانی عوامی پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور تمام چیلنجوں کے درمیان آئین کے تینوں ستونوں عدلیہ، مقننہ اور ایکزیکیوٹیو نے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے توازن برقرا ررکھا ہے اور ملک کو مناسب راستہ دکھایا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہندستان کے مختلف اداروں نے اس روایت کو مزید مضبوطی دی ہے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ یہ دہائی ہندوستان سمیت دنیا کے سبھی ممالک میں تبدیلیوں کی دہائی ہے ۔ یہ تبدیلیاں سماجی، اقتصادی اور ٹیکنالوجی ہر محاذ پر ہوں گی۔ یہ تبدیلیاں منطقی اور انصاف پر مبنی ہونی چاہئیں اور سب کے مفاد میں بھی۔ یہ تبدیلی مستقبل کی ضروریات کو ذہن میں رکھ کر کی جانی چاہئے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے ایسے 1500 قوانین منسوخ کئے ہیں جوغیر موزوں ہو گئے تھے ۔ ساتھ ہی حکومت نے نئے قانون بھی بنائے ہیں۔ انہوں نے کہا ‘‘ہم نے خواجہ سراہوں کے حقوق، طلاق ثلاثہ پر روک اور دویانگو کے حقوق کے لئے شدت سے کام کیا ہے ’’۔انہوں نے ہندوستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے حالیہ برسوں میں دیئے گئے انقلابی فیصلوں کے پس منظر میں کہا ‘‘حال ہی میں کچھ ایسے بڑے فیصلے آئے ہیں، جن کے سلسلے میں پوری دنیا میں بحث ہورہی تھی۔ فیصلے سے پہلے کئی طرح کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، لیکن ہوا کیا؟ 130 کروڑ ہندوستانیوں نے عدلیہ کی طرف سے دیے گئے ان فیصلوں کو پوری رضامندی کے ساتھ قبول کیا۔وزیراعظم نے صنفی انصاف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس کانفرنس میں ‘جینڈ جسٹ ورلڈ’ کا موضوع بھی رکھا گیا ہے ۔