افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے نام ذخیرہ اندوزی ، محکمہ سیول سپلائز کا انتباہ ندارد
حیدرآباد۔2ستمبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ اور شہر حیدرآباد میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے جا اضافہ کے خلاف محکمہ سیول سپلائزو محکمہ اوزان وپیمائش کی جانب سے جاری کئے جانے والے متعدد انتباہ کے باوجود اشیائے ضروریہ کی فرضی قلت کے ذریعہ ان کی قیمتو ںمیں اضافہ کیا جا رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال کے سبب قیمتوں میں اضافہ ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے ساتھ خشک میوہ جات کی قیمتوں میں اس طرح اضافہ کردیا گیا جیسے 15 اگسٹ کے بعد میوہ جات شہر پہنچنے والے تھے اور طالبان کے اقتدار میں آتے ہی پہنچنا بند ہوگیا۔ محکمہ سیول سپلائز کا کہنا ہے کہ ریاست کے کسی بھی مقام پرذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ شہر حیدرآباد کے ٹھوک تاجرین کے بازاروں میں جہاں صورتحال انتہائی ابتر ہے ان بازاروں پر سیول سپلائز کا کوئی کنٹرول نظر نہیں آتا کیونکہ شہر کے بیشتر ٹھوک تاجرین جن کا مخصوص گروپ سے تعلق ہے وہ من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں جس کے سبب ارزاں فروشوں اور چھوٹے تاجرین کو بھی زائد قیمتیں ادا کرتے ہوئے اشیائے ضروریہ اور خشک میوہ جات کے علاوہ مصالحہ جات کے حصول پر مجبور ہیں اور اس کے منفی اثرات صارفین پر مرتب ہو نے لگے ہیں۔ بیگم بازار‘ عثمان گنج‘ محبوب گنج کے علاوہ وہ بازار جہاں اشیائے ضروریہ اجناس و دالیں اور دیگر اشیاء فروخت کی جاتی ہیں ان بازاروں میں ہی ان کی قیمتو ںمیں اضافہ کیا جانے لگا ہے جس کے نتیجہ میں یہ اشیاء مہنگے داموں میں ہی شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچ رہی ہیں ۔ شہر کے ٹھوک تاجرین کے بازارو ںمیں جو قیمتوں کا تعین کیا جا رہاہے اس پر کسی کا کوئی کنٹرول نہ ہونے کے سبب وہ اپنی من مانی کر رہے ہیں اور محکمہ سیول سپلائزکے علاوہ اوزان و پیمائش کی جانب سے انتباہی اعلامیہ جاری کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے جس کے نتیجہ میں قیمتوں پر کنٹرول کے امکانات موہوم ہوتے جارہے ہیں۔ عہدیداروں کی جانب سے سختی کے ساتھ ہی تاجرین کی کالابازاری اور ذخیرہ اندوزی کے عمل کی شروعات ہوجاتی ہے اور اس کالا بازاری و ذخیرہ اندوزی کے نتیجہ میں قیمتوں میں زبردست اچھال ریکارڈ کیا جاتا ہے اور اگر کسی شئے پر فرضی قلت کے دوران 5روپئے کا اضافہ کیا جاتاہے اور اس شئے کی قلت ختم ہوجاتی ہے تو وہ 5روپئے قیمت کم نہیں کی جاتی بلکہ اس میں 3روپئے کم کئے جاتے ہیں اور دو روپئے اضافہ لینے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے جس کے نتیجہ میں شہریوں کو اضافی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔M