خفیہ ایجنڈہ کے تحت کے سی آر کی نریندر مودی سے ملاقات: محمد علی شبیر

   

بی جے پی کی بی ٹیم برقرار رہنے کا تیقن، تحفظات کے مسئلہ پر مسلمانوں اور درج فہرست اقوام سے دھوکہ دہی، مسلمانوں سے ٹی آر ایس قائدین کے بائیکاٹ کی اپیل

حیدرآباد۔/5 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل کے سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے خفیہ ایجنڈہ کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور اپنی غلطیوں کیلئے معذرت خواہی کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران اور اس کے بعد میں کے سی آر کا رویہ معذرت خواہانہ تھا اور اُن کی باڈی لینگویج یہ ظاہر کررہی تھی کہ کے سی آر بی جے پی کی بی ٹیم کی طرح برقرار رہنے کا تیقن دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں بی جے پی اور نریندر مودی کے خلاف جو بیان بازی کی گئی تھی اس پر مودی سے معذرت خواہی کرلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت کے قیام سے لے کر آج تک ٹی آر ایس نے ہر مسئلہ پر مرکز کی تائید کی اور انہوں نے شریعت میں مداخلت جیسے حساس مسئلہ پر مسلمانوں کے جذبات کی پرواہ نہیں کی۔ ایک طرف کے سی آر خود کو مسلمانوں کا ہمدرد ظاہر کرتے ہوئے نہیں تھکتے تو دوسری طرف انہوں نے نریندر مودی کی تائید کے ذریعہ اپنا دوہرا رویہ ثابت کردیا۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کے تحفظات کے مسئلہ پر نمائندگی نہیں کی گئی۔ اس سے کے سی آر کی ذہنیت آشکار ہوتی ہے۔ کے سی آر نے اسمبلی میں تیقن دیا تھا کہ تحفظات کے مسئلہ پر پھر ایک مرتبہ وزیر اعظم سے نمائندگی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر انہوں نے نئی دہلی میں دھرنا منظم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ دراصل کے سی آر کو مسلم اور درج فہرست قبائیل کے تحفظات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ دھرنا دینے کے اعلان کو بھول چکے ہیں۔ وزیر اعظم سے 22 نکاتی اُمور پر نمائندگی کی گئی جس میں مسلم تحفظات شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں ٹی آر ایس قائدین کو داخلے سے روکیں اور ان کا بائیکاٹ کریں۔ حضور نگر کے ضمنی چناؤ میں مسلمان اور درج فہرست قبائیل تحفظات کے مسئلہ پر کے سی آر کی دھوکہ دہی کا بدلہ لیتے ہوئے کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ محمد علی شبیر نے آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کو روکنے میں ناکامی پر کے سی آر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کا رویہ آر ٹی سی ملازمین کے حق میں قابل مذمت ہے۔ کے سی آر تلنگانہ تحریک میں آر ٹی سی ملازمین کی حصہ داری کو بھول چکے ہیں۔ آر ٹی سی ملازمین نے اپنی ملازمت کو خطرہ میں ڈال کر کئی قربانیاں دی ہیں تاہم ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر نے صرف اپنے خاندان کی بھلائی کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات پر یو ٹرن لے لیا۔ اپوزیشن میں کے سی آر نے آر ٹی ملازمین کے مطالبات کی تائید کی تھی لیکن اب انہیں برطرف کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتالی ملازمین کے خلاف ایسما قانون کا نفاذ غیر جمہوری ہے۔ محمد علی شبیر نے ملازمین کی ہڑتال کی تائید کا اعلان کیا اور کہا کہ دیڑھ لاکھ ملازمین روزانہ 11000 بسوں کے ذریعہ ایک کروڑ عوام کی خدمت کررہے ہیں۔انہوں نے ہڑتال کے سلسلہ میںچیف منسٹر سے مداخلت کی اپیل کی۔ محمد علی شبیر نے سی پی آئی کی مذمت کی جس نے حضور نگر میں ٹی آر ایس کی تائید کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی کو تائید کی شرائط کو برسر عام لانا چاہیئے۔