امپھال: منی پور کے وزیر اعلی این بیرن سنگھ نے 4 مئی کو ریاست میں دو خواتین کے ساتھ بربریت کرنے والے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا یقین دلایا ہے ۔ اس واقعے کا ویڈیو چہارشنبہ کو وائرل ہوا ۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ تمام مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں سزائے موت پر بھی غور کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میری ان دو خواتین سے تعزیت ہے جنہیں انتہائی ذلت آمیز اور غیر انسانی فعل کا نشانہ بنایا گیا ۔ گزشتہ روز وائرل ویڈیو دیکھ کر دکھ ہوا۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے فوراً بعد اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے منی پور پولیس حرکت میں آگئی اور کل صبح اس سلسلے میں پہلی گرفتاری عمل میں لائی۔ برین نے کہا کہ فی الحال مکمل تفتیش جاری ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سزائے موت سمیت تمام مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔
یاد رہے ایسا گھناؤنا کام کرنے والوں کے لیے ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ چیف منسٹر نے آج مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دیگر مرکزی قائدین سے بھی اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ خیال رہے کہ منی پور کا بحران گزشتہ 3 مئی کو چورا چند پور ضلع میں شروع ہوا اور تشدد تیزی سے دیگر مقامات تک پھیل گیا اور 4 مئی کو ریاست میں بڑے پیمانے پر آتش زنی اور ہلاکتیں ہوئیں۔ ریاست میں تشدد کے دنوں کے اندر چورا چند پور میں دو نسلی گروہوں کے درمیان تصادم ہوئے ۔ اس میں 100 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، مظاہرین نے تین ہزار سے زائد مکانات کو نذر آتش کیا اور 60 ہزار سے زائد لوگ تشدد سے متاثرہ علاقوں سے بے گھر ہوئے ۔ گورنر انوسوئیا یوکی کی سربراہی میں ایک امن کمیٹی تشکیل دی گئی، جب کہ سیکورٹی ایڈوائزر کلدیپ سنگھ کی قیادت میں فوجی اور حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے ۔