دادا کے ہندوستانی ہونے کا ثبوت دیں

   

صرف ناقص دستاویزات کی بناء پر کسی کو غیرقانونی تارک وطن قرار دیکر سزائے قید نہیں دی جاسکتی
نئی دہلی ۔ 4 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایک مہینے کے اندر آسام کے لاکھوں افراد جان جائینگے کہ انہیں حکومت ہندوستانی سمجھتی ہے یا نہیں ۔ کسی شخص کا نام اگر قومی رجسٹر برائے شہریان سے حذف کردیا جائے اس کا اعلان 31 اگست کو ہوگا۔امکان ہیکہ حکومت کے نیم عدالتی غیرملکی قبائیلیوں کی فہرست میں شامل کرلیا جائے اور اسے مقدمہ کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ ان کے اپنے ہندوستانی ہونے کا ثبوت دینے آخری موقع ہے تاکہ وہ عدالت کی مہنگی اور مشکلات سے بھرپور اپیل سے بچ سکیں۔ مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے انہیں درانداز اور ’دیمک‘ قرار دیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے عہد کیا ہیکہ وہ انہیں اپنا بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کردیں گے۔ سپریم کورٹ نے بھی اس کارروائی کی رفتار میں تیزی پیدا کردی جو ان کا پتہ چلانے و گرفتار کرنے میں کی جارہی ہے۔ قبائیلیوں نے 1.17 لاکھ افراد کو غیرملکی قرار دیا ہے۔ 1980کی دہائی سے ایسا کیا جارہا تھا۔ گذشتہ 5 سال سے اس کارروائی میں شدت پیدا ہوگئی ہے لیکن تحقیقات سے پتہ چلتا ہیکہ ان کے مقدمہ جانبدارانہ اور انتہائی کمزور و پرعیب ہیں حالانکہ حق اطلاعات قانون عدالت کے احکام کے بموجب جولائی تا ڈسمبر 2018 آجانے چاہئے تھے جو آسام کے 100 قبیلوں کے بارے میں ہیں حالانکہ انہیں سرکار کو معلومات فراہم کرنی چاہئیں لیکن صرف پانچ نے تعمیل کی لیکن ان کی تعمیل بھی واضح نہیں ہے۔ آسام کے کارکنوں اور انسانی حقوق ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہیکہ امکانی طور پر ٹریبونلس کی جانب سے تعصب برتا جارہا ہے لیکن یہ پہلا واقعہ ہے جبکہ ٹریبونلس کے فیصلے اس سطح پر آئے ہیں۔ تحقیقات سے ان میں کئی غلطیاں ہونے کا پتہ چلتا ہے لیکن خاص طور پر پانچ خطرناک ہیں۔ پہلی غلطی یہ کہ فیصلوں کا شکار 113 افراد میں سے ایک بنگالی بولنے والے سے میں ملاقات کرچکا ہوں۔ دوسری یہ کہ زیادہ تر مسلمانوں پر مقدمہ دائر کئے جارہے ہیں اور انہیں غیرملکی قرار دیا جارہا ہے۔ وہ ان مقدمات کا 89 فیصد ہیں جن کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ 10 افراد میں سے 9 مسلمان ہیں جن پر مقدمے چلا کر انہیں غیرملکی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں 10 ہندوؤں میں سے چار کو مقدموں کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں غیرملکی قرار دیا گیا ہے۔ تیسری یہ کہ احکامات کا 78 فیصد جانبدارانہ طور پر جاری کردہ احکام ہیں۔ پولیس کی ادعا ہیکہ وہ مقدمہ کیلئے سمن جاری کئے تھے جو مفرور قرار دیئے گئے تھے لیکن ملزمین میں سے کئی ان کے دیہاتوں میں موجود تھے۔ کئی افراد کو یہ پتہ بھی نہیں تھا کہ انہیں غیرملکی قرار دیا گیا ہے ۔

چوتھی یہ کہ بیشتر مقدمات میں ٹریبونلس میں ثبوت کا بوجھ ملزمین کے کندھوں پر ڈال دیا تھا۔ انہوں نے فرض کرلیا تھا کہ وہ اس وقت تک غیرملکی ہیں جب تک کہ وہ اپنے آپ کو ہندوستانی ثابت نہ کریں۔ پولیس اطلاعات کے بموجب ایسے ملزمین نے نامکمل فرضی اور جانبدارانہ ثبوتوں کی شکایت کی ہے۔ پانچویں یہ کہ کئی افراد جو خود کو ہندوستانی ثابت کرچکے تھے نئی شکایتوں کی صورت میں انہیں دفاع کرنا پڑا۔ ایک کباڑی احمد جس کی عمر 50 سال ہے، 2005ء میں ملزم قرار دیا گیا تھا لیکن اسے بعد میں ہندوستانی قرار دیا گیا لیکن 2016ء میں اسے دوبارہ ملزم قرار دیا گیا۔ وزارت داخلہ نے اپنے ای میل میں کہا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہیکہ کوئی ملزم روزگار سے وابستہ ہے یا نہیں لیکن تحقیقات سے اس کے برعکس ثابت ہوتا ہے۔ بعض ٹریبونلس نے معیاری مقدمہ کی کارروائی کی تعمیل نہیں کی۔ ایک ٹریبونل نے ان تمام افراد کو’غیرملکی نہیں‘ قرار دیا جن کی اس نے سماعت کی تھی لیکن دوسری ٹریبونل نے ہر شخص کو غیرملکی قرار دیا۔ کونسی دستاویزات قابل قبول تھیں۔ کونسی تحریری بیانات میں اس کا ثبوت موجود تھا۔ کیا نسلی مواد قابل قبول تھا یا پھر ہر ٹریبونل کا جج اس پر انحصار کرتا تھا۔ قومی رجسٹر برائے شہریت کی کارروائی اختتام پذیر ہے۔ لاکھوں افراد کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔ یہ حیرت انگیز بات ہیکہ ایسے ادارے برخاست کردیئے گئے ہیں ورنہ وہ اس بات کا فیصلہ کرتے کہ تمام خاندان اپنے مکان، جائیداد یہاں رکھے ہیں اور ملک میں آزادانہ طور پر قیام کرسکتے ہیں۔ ریاست اور مرکز ایسا معلوم ہوتا ہیکہ بے شمار لوگوں کو خارج کرنے کیلئے تیار ہیں۔ وہ مزید 1000 ٹریبونلس کا اضافہ کررہے ہیں حالانکہ 100 ٹریبونل موجود ہیں اور 10 حراستی مرکزوں کا اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ 6 حراستی مرکز موجود ہیں۔ مرکز کی بی جے پی حکومت اور آسام کی بی جے پی حکومت ملک گیر سطح پر مباحث منعقد کررہی ہے لیکن یہ سیاست کیلئے فائدہ مند نہیں ہوسکتی بلکہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو دفتریت کے جال میں پھانس سکتی ہے۔ غالباً ہندوستان میں مقیم دیگر افراد ان کے اخراج پر خوش ہوں گے کیونکہ ان کے دروازوں کی دہلیز تک یہ مصیبت ابھی نہیں آئی ہے۔