درگاہ حضرت سید تاج الدین باگ سوار ؒ ویملواڑہ کو شہید کرکے منتقل کردیا گیا ۔ ہائیکورٹ میں حکومت کا اعتراف

   

ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو اقدام سے واقف کروایا ۔ درگاہ شریف کی منتقلی کا کسی کو اختیار نہیں۔ درخواست گذار کے وکیل کا استدلال
حیدرآباد 2 مارچ (سیاست نیوز) درگاہ حضرت سید بابا تاج الدین باگ سوارؒ ویملواڑہ کو شہید کرکے اس کے حقیقی مقام سے منتقل کردیا گیا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ جنرل اے سدرشن ریڈی نے پیش ہوکر عدالت کو واقف کروایا کہ ویملواڑہ راجہ رجیشور سوامی مندر کے تعمیری اور ترقیاتی کاموں کیلئے حکومت نے درگاہ کو مندر کے احاطہ سے دور محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے جسٹس وجئے سین ریڈی کی بنچ پر مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت کو واقف کرواتے ہوئے عدالت میں موجود تمام کو حیرت میں ڈال دیا۔ حکومت نے دو یوم قبل کوکا پیٹ میں شاردھا پیٹھ کی اراضی جو کہ محکمہ آبرسانی کے حوالہ کی گئی تھی اس کے متعلق انکشاف کے بعد اندرون 12گھنٹے ان احکامات کو منسوخ کردیا تھا اور شاردھا پیٹھ کی اراضی کو محکمہ آبرسانی کے حوالہ کئے جانے کے احکامات کو منسوخ کرکے عہدیداروں پر چیف منسٹر نے برہمی کا اظہار کیا تھا لیکن گذشتہ ہفتہ درگاہ حضرت سید بابا تاج الدین باگ سوارؒ کی شہادت اور درگاہ کی منتقلی کے انکشاف کے بعد بھی چیف منسٹر کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیاگیا تھا اور نہ کسی عہدیدار پر برہمی کا اظہار کیاگیا بلکہ آج حکومت کے عدالت میں پیش موقف سے یہ واضح کردیا گیا کہ ویملواڑہ مندر کی توسیع کیلئے درگاہ حضرت باگ سوارؒ کو شہید کرکے منتقل کردیاگیا ہے۔ ہائی کورٹ میں اس موقف کوپیش کئے جانے کے ساتھ ہی ہندوتوا طاقتوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ درگاہ کی شہادت کے ویڈیو وائرل کئے جانے لگے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل اے سدرشن ریڈی نے عدالت کو بتایا کہ درگاہ کو موجودہ مقام سے دور بڑے اور محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ۔جسٹس وجئے سین ریڈی نے گذشتہ دنوں مذکورہ درگاہ کے تحفظ اور درگاہ کو جانے والے راستہ پر رکاوٹوں کو دور کرنے داخل رٹ درخواست پر عبوری احکام جاری کرکے درگاہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی لیکن اب اس مقدمہ میں ایڈوکیٹ جنرل نے درگاہ کی شہادت کے متعلق عدالت کو واقف کروایا ہے۔ 24فروری کی اشاعت میں روزنامہ سیاست نے درگاہ حضرت سید بابا تاج الدین باگ سوارؒ کی شہادت پر خصوصی رپورٹ شائع کرکے انکشاف کیا تھا کہ ویملواڑہ کی مندر راجہ راجیشور سوامی کی توسیع اور ترقیاتی کاموں کیلئے مذکورہ درگاہ کو شہید کردیا گیا اس کے بعد وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی لیکن سہ رکنی کمیٹی میں کون تھے اس کو منظر عام پر نہیں لایا گیا بلکہ ریاستی وزیر اور محکمہ اقلیتی بہبو دیا حکومت سے درگاہ کی شہادت پر تاحال کو بیان جاری نہیں کیاگیا اور آج عدالت میں حکومت کے موقف کوپیش کرکے سیاست‘ میں شائع خبر کی توثیق کردی گئی ۔ درگاہ ویملواڑہ کی شہادت کے بعد یونائیٹڈ مسلم فورم‘ انجمن سجادگان و متولیان‘ ضلع درگاہ کمیٹی ‘ موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس و دیگر تنظیموں سے اس اقدام کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ درگاہ کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کا مطالبہ کیا جاچکا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے حکومت کے موقف کو پیش کئے جانے پر درخواست گذار ناظمہ محمد کے وکیل جناب ذیشان عدنان احمد نے استدلال پیش کیا کہ درگاہ کی منتقلی کا کسی کو بھی اختیار نہیں ہے اور متولی بھی حکومت کو اختیار نہیں دے سکتا۔ بتایاجاتا ہے کہ انہو ںنے حکومت کے استدلال کو مسترد کرکے کہا کہ درگاہ کی منتقلی کا کسی کو اختیار نہیں ہے متولی اور وقف بورڈ بھی اس معاملہ میں فیصلہ کے مجاز نہیں ہیں۔ سماعت کے دوران تلنگانہ وقف بورڈ سے کوئی وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے اور بورڈ کے موقف کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی حالانکہ درخواست گذار نے وقف بورڈ کو بھی فریق بنایاہے۔3