دستور ہند میں مذہبی آزادی الٰہ آباد ہائیکورٹ ، کیرالا ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

   

ڈاکٹر محمد سراج الرحمن

ہندوستان کی عدلیہ پر آج ہم انصاف کی امید رکھتے ہیں ، یہ سیکولر ملک جس کی بنیاد پر عظیم جمہوریہ ہندوستان قائم ہوا ، قائم ہے اور انشاء اللہ قائم رہے گا ۔ الٰہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اس کی زندہ مثال ہے ہم نے مسلسل اترپردیش کے مدارس ، دینی مراکز حتی کہ خانگی شخصی جائیدادیں ، مذہبی آزادی ، نمازوں پر پابندی ، اپنے خانگی جائیدادوں میں بلکہ خانگی ملکیت میںمذہبی اجتماعات (Prayers) کرنے بھی مقامی نظم و نسق کی مداخلت ، حکومت کی طرف سے رکاوٹ ، بریلی کی ایک خانگی جائیداد میں نماز ادا کرنے پر گرفتاریاں جیسے واقعات ، شاپنگ سنٹر پر مذہبی عبادات پر رکاوٹ اور بعض شرپسندوں کی طرف سے بوال کھڑا کیا جاتا رہا جس کی خبریں ہم نے مسلسل اخبارات ، میڈیا میں سنتے دیکھتے رہے ہیں ۔
اسی طرح کی ایک اپیل GOSPEL میٹنگ کی جانب سے الٰہ آباد ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کرتے ہوئے استدلال کیا کہ میرے اپنے خانگی ملکیت میں مذہبی اجتماع منعقد کرنا چاہتا ہوں جس کیلئے میں مقامی پولیس ، اڈمنسٹریشن سے رجوع ہوکر اجازت طلب کررہا ہوں لیکن میری درخواست کو پس پشت ڈالا جاکر ٹال مٹول کیا جارہا ہے ، مسلسل درخواست پر خاطر خواہ جواب حاصل نہ کرسکا جس پر آلٰہ آباد ہائیکورٹ سے جسٹس آنریبل اتل سریدھرن ، آنریبل جسٹس سدھارت نندن نے اس کیس کی سنوائی کرتے ہوئے 27جنوری 2026ء کو مدبرانہ تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کیس کی یکسوئی کرتے ہوئے سارے ہندوستان بھر کے مدبرانہ شہریوں کے اضطراب کو سکون میں تبدیل کردیا ۔ چونکہ یہ عدالتی فیصلہ صرف الٰہ آباد یا اترپردیش کی ریاست تک محدود نہیں ہوتا ، یہ فیصلہ یہ Verdictکی مثال سارے بھارت کی عدلیہ پر لاگو کیا جاسکتا ہے ۔ ہر شہری اس سے مستفید اور مثال لے سکتا ہے ۔ معزز عدالت نے یہ واضع کیا ہے کہ خانگی ملکیت یا جائیداد ، مکان ہو یا پھر کوئی شخصی جگہ پر مذہبی رسومات کی ادائیگی ، مذہبی اجتماع ، دھارمک سبھا (Religious Congregation) کیلئے کوئی سرکاری اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ آئین ہند 25 کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق یا اس کی مذہبی آزادی ہے جسے وہ بلاجھجک ، بلا عذر و حیلہ اپناسکتا ہے ، اسے کسی بھی شخص کی مداخلت ، زور یا زبردستی برداشت نہیں اور قابل گرفت ہوگی۔ معزز جج صاحبان نے یہ بھی وضاحت کی کہ ان اجتماعات میں کسی شر کا خوف نہیں ہوتا اور کسی دوسرے کی دلآزاری نہ ہو ، فیصلہ میں بتایا گیا کہ عوامی مقامات ، سڑکوں ، پارک یا سرکاری املاک پر اجتماعی ، جلسہ جلوسوںکیلئے قبل از وقت اجازت حاصل کرلی جائے ، فیصلہ صادر کردیا گیا ۔ (WRIT-C.No. 1997 of 2026) ۔ ہم ہندوستانی آئین کے آرٹیکل (دستور) 19 کے تحت بھی ہمیں پوری اجازت ہے کہ بلارکاوٹ ، بلا جبر و زور کے ہماری مرضی کے مطابق مذہبی طریقہ ، راستہ رواداری اختیار کرسکتے ہیں ۔ اگر کوئی جبراً اس راہ میں مداخلت کرے گا یہ جرم اور گرفت کا باعث بنے گا ۔
کیرالا ہائیکورٹ کا فیصلہ : ایڈوکیٹ قاضی محمد رضوان ( گنٹور) کے مطابق کیرالا کی ایک مندر میں کرسچین پاسٹرس کو مذہبی تقریب میں دعوت دی گئی جس پر ہندو تنظیم نے کیرالا ہائیکورٹ میں رٹ اپیل داخل کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مذہبی عبدات گاہ ( مندر) میں بلایا گیا لہذا یہ ہندو قانون کی خلاف ورزی ہے اس کو روکا جائے ۔ عدالت ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کسی بھی مذہبی تقریب میں دوسرے مذہبی رہنماؤں کو مدعو کیا جانا یہ دستور ہند کے قانون کے مطابق جائز ہے ، یہ خلاف قانون نہیں ہے ، اپیل مسترد کردی گئی ۔ اسی طرح سری سیلم پہاڑ پر ایک ہندو مذہبی مندر ہے ، اس روڈ پرچلنے والی آر ٹی سی بس کے ڈرائیور اپنے مذہبی شناخت ، لباس میں ( داڑھی ، ٹوپی پہنے ) مسلم ڈرائیور سے وہاں موجود پولیس اہلکار سیکیورٹی نے کہا کہ پہاڑ پر مندر میں اس لباس سے نہیں جاسکتے ۔ لہذا ٹوپی نکالنے کہا گیا جس پر ڈرائیور نے ٹوپی نکالنے سے انکار کردیا ۔ سلام ہے اس کی ایمانی حرارت کو ۔
یہ متعدد قابل تعریف عدالتی فیصلے ہر امام ، معلم ، موذن ، مدارس کے خانخواہوں کے مساجد ، دینی مراکز کے ذمہ داروں کو جاننا عام کرنا ضروری ہے ۔ یہ ہندوستانی عدلیہ کا فیصلہ قابل تعریف ، قابل رشک اور ہماری عدلیہ پر یقین کو بڑھاتا ہے ۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ مساجد ، مدارس ، دینی مراکز کی حفاظت فرمائے ۔ ( آمین ) ۔