ایس ایس سی کے بعد طلبہ کیا کریں؟ فیض عام ٹرسٹ کا پروگرام افتخار حسین کا خطاب
حیدرآباد ۔ 24 جنوری (سیاست نیوز) ایس ایس سی یا دسویں جماعت کا امتحان طلبہ کی زندگی کا ایک اہم موڑ ہوتا ہے۔ دسویں جماعت اصل میں اعلیٰ تعلیم کا دروازہ ہے۔ اس دروازے سے داخل ہوکر طلباء انٹرمیڈیٹ، ڈگری، پی جی اور پھر ڈاکٹریٹ تک اپنا تعلیمی سفر جاری رکھتے ہیں۔ اب جبکہ ایس ایس سی کے امتحانات قریب آچکے ہیں ایسے میں طلبہ اوران کے والدین و سرپرستوں کو یہ بتانا ضروری ہیکہ ایس ایس سی کے بعد کیا کریں۔ ان خیالات کا اظہار سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے ایس ایس سی طلبہ کیلئے فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے منعقدہ کونسلنگ کے موقع پر کیا جس کا عنوان ’’ایس ایس سی کے بعد کیا کریں‘‘ رکھا گیا تھا۔ واضح رہیکہ فیض عام ٹرسٹ نے ہزاروں طلبہ کی تعلیمی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں جاریہ سال 73 طلباء و طالبات ایس ایس سی امتحانات لکھ رہے ہیں۔ جناب افتخار حسین نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ سخت محنت کریں۔ اچھے نمبرات سے کامیاب ہوکر ملت کا نام روشن کریں۔ یہ پروگرام بابوخان اسٹیٹ میں واقع فیض عام ٹرسٹ کے کونسلنگ ہال میں منعقد ہوا جس کی نظامت جناب رضوان حیدر ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ نے کی جبکہ مس ثمینہ نے خیرمقدم کیا۔ جناب سید طاہر حسین نے جنرل کیریئر گائیڈنس کے ذریعہ طلبہ کو اپنے تعلیمی سفر میں کامیابی حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ محترمہ بلقیس نے ووکیشنل کورسس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ جناب رضوان حیدر اور محترمہ یاسمین احمد نے طلبہ سے سوالات کئے۔ فیلڈ آفیسر فیض عام ٹرسٹ محمد اعظم خاں نے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر امریکہ سے آئے ہوئے مہمانوں بشمول خورشید احمد، عقیل علی، عرفان علی، فہمیدہ، آصف ارسطو، ریحان ارسطو، علی اکبر، اشفاق ارسطو، ڈاکٹر شفیع، محترمہ افشاں، محترمہ بلقیس افروز، محترمہ شاہدہ، محترمہ روبینہ بھی موجود تھے جو مسرت کا اظہار کیا۔ پروفیسر انورخاں، ڈاکٹر عبدالوحید، روٹرین معین الدین، جناب خلیل احمد (خلیل واچ)، بشیرالدین فاروقی، ڈاکٹر مخدوم محی الدین ٹرسٹی بھی موجود تھے۔ محترمہ انیس حسین نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔ جناب عبدالحسین، جناب علی حیدر عامر، جناب حیدر علی ارکان مجلس عاملہ بھی موجود تھے۔