موسیٰ ندی پراجکٹ پر حکومت سنجیدہ ، اپوزیشن قائدین کی عنقریب کانگریس میں شمولیت: مہیش کمار گوڑ
حیدرآباد ۔11۔ اکتوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ شراب اسکام میں بی آر ایس رکن کونسل کویتا کی ضمانت بی جے پی اور بی آر ایس میں اتحاد کا ثبوت ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ شراب اسکام میں گرفتار کئے گئے بعض دیگر قائدین کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی ہے جن میں نئی دہلی کے ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا شامل ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب مقدمہ ایک ہے تو پھر منیش سیسوڈیا کو ضمانت کیوں حاصل نہیں ہوئی ۔ صدر پردیش کانگریس نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے مرکز میں 10 سالہ حکمرانی کے دوران غریبوں کے مسائل کو نظر انداز کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین کو غریبوں کے بارے میں بیان بازی کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کی تکمیل میں ریاستی حکومت سنجیدہ ہے اور تمام متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے بعد ہی پراجکٹ پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی خفیہ مفاہمت کے ذریعہ ترقیاتی پراجکٹس میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے عنقریب دیگر پارٹیوں کے قائدین شمولیت اختیار کریں گے۔ بی آر ایس سے کئی ارکان اسمبلی اور قائدین نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس دولت کا استعمال کرتے ہوئے سوشیل میڈیا میں کانگریس حکومت کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کا سوشیل میڈیا کانگریس کے خلاف انتہائی گھٹیا مہم میں مصروف ہے۔ خاتون وزراء کونڈا سریکھا اور سیتکا کے خلاف اہانت آمیز پوسٹ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی سے متاثر ہوکر بی آر ایس قائدین کانگریس میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ بی سی طبقات کے حق میں رکن کونسل تین مار ملنا کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ حکومت بی سی طبقات کے تحفظات میں اضافہ کیلئے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین مار ملنا کے بیانات کو مخالف حکومت یا مخالف پارٹی نہیں کہا جاسکتا۔ نامپلی اسمبلی حلقہ میں کانگریس اور مجلس کے درمیان کشیدگی پر مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ قانون اپنا کام کرے گا۔ غلط چاہے کسی جانب سے کیوں نہ ہو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کے قیام کے ذریعہ حکومت ریاست میں تعلیمی انقلاب کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ہر اسمبلی حلقہ میں انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس قائم کئے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ دسہرہ سے قبل نامزد عہدوں پر تقررات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن ہریانہ اور جموں و کشمیر کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تقررات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون ایک ماہ پردیش کانگریس کمیٹی کی ریاستی عاملہ تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ موسیٰ ندی کے تحفظ اور ترقیاتی پراجکٹ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ رپورٹ کی تیاری موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کیلئے نہ کہ انہدامی کارروائی کیلئے ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ موسیٰ ندی پراجکٹ کے 50 فیصد متاثرین نے حکومت کے امدادی پیاکیج کو قبول کرلیا ہے۔ اسی دوران اے آئی سی سی سکریٹری روہت چودھری نے مہیش کمار گوڑ سے ملاقات کی اور صدارت کی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔ 1