سابق آئی پی ایس آفیسر سنجیو بھٹ کے نام بیوی اور بیٹے کا خط
احمدآباد ۔ 4 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) فرض شناس، دیانتدار اور گجرات فسادات کے پیچھے کارفرما ذہنوں کو بے نقاب کرنے والے پولیس آفیسر سنجیوبھٹ گجرات سنٹرل جیل میں سزائے عمر قید کاٹ رہے ہیں (انہیں آخری سانس تک سلاخوں کے پیچھے رکھنے کی سزاء سنائی گئی ہے) سنجیو بھٹ کو آخر یہ کس گناہ یا جرم کی سزاء ملی، کیا انہوں نے کسی کا قتل کیا تھا آیا بے قصوروں کی زندگیوں سے کلید تھا یا پھر قانون سے کھلواڑ کرتے ہوئے ملک سے غداری کی تھی؟ نہیں نہیں۔ انہوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا ان کی اپنی شریک حیات کے الفاظ میں ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے گجرات فسادات میں مودی ؍ امیت شاہ کے ملوث ہونے کوبے نقاب کیا تھا۔ بہرحال سنجیوبھٹ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں اور ان کی اہلیہ جیل کے باہر اپنے شوہر کیلئے انصاف کی لڑائی لڑرہی ہیں۔ فیس بک پر بھی زبردست مہمش روع ہوئی ہے۔ آپ کو ہم سنجیوبھٹ کی اہلیہ شویتا بھٹ 24 سالہ بیٹے کے ان جذبات و حیالات سے واقف کروارہے ہیں جو انہوں نے دیوالی کے موقع پر قلمبند کئے۔ میں شیویتا سنجیو بھٹ ہوں۔ سنجیو کو بغض و عناد اور انتقامی جذبے کے تحت گرفتار کرکے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کیلئے جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہ تقریباً ایک سال 3 ماہ سے جیل میں ہیں۔ ایک اور دیوالی آئی لیکن سنجیو ہنوز انصاف کیلئے لڑ رہے ہیں وہ اپنے گھر اور اپنے خاندان سے دور ہیں جبکہ ساری دنیا روشنیوں، محبتوں اور یکسانیت کا یہ تہوار اکٹھا ہوکر منارہی ہے۔ ایسے میں پھر ایک بار دیوالی آئی ہے لیکن میرے اور میرے ارکان خاندان کیلئے یہ دیوالی مکمل تاریکی اور بناء کسی خوشی و مسرت کے آئی ہے۔دیوالی دراصل تاریکی پر روشنی، جہالت پر علم اور بدی پر نیکی کی فتح ہے… یہ مجرمین و گنہگاروں پر فتح و کامرانی کے بعد راست باز کی واپسی کا جشن ہے۔ میں بھی اس وقت کا انتظار کررہی ہوں جب میں اور میرے ارکان خاندان ہماری دیوالی منائیں، میرے شوہر کی واپسی کی خوشیاں منائیں، اس دن کی خوشیاں منائیں جب سچائی، دیانتداری، راست بازی، بدی، نفرت اور کینہ پروری پر فتح حاصل کرے گی۔ اس دیوالی کے موقع پر میرے نورنظر شنتانو نے جو گھر سے دور بیرون ملک میں مقیم ہے حسب ذیل مکتوب اپنے والد سنجیو بھٹ کیلئے لکھا ہے جسے میں آپ سب کے ساتھ شیر کرنا یا بانٹنا چاہتی ہوں۔ پیارے ڈیڈی … آپ کو دیوالی کی بہت بہت مبارکباد۔ یہ دوسری دیوالی ہے جو آپ گھر اور اپنے ارکان خاندان سے دور رہ کر گذار رہے ہیں لیکن گھر اور اپنے خاندان سے دور رہنا اب کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ اب آپ کے خاندان نے کافی وسعت اختیار کرلی ہے۔ لاکھوں انصاف پسند اور انسانیت نواز لوگ آپ کی تائید و حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور آپ کیلئے لڑ رہے ہیں۔ تمام کے تمام آپ کی گھر واپسی کے منتظر ہیں۔ آپ کو لاکھوں لوگوں سے جو محبت ملی ہے ان لوگوں نے آپ کی جس طرح تائید و حمایت کی ہے یہ جاہل اور کینہ پرور ٹھگ اسے نہیں سمجھتے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ تم لوگوں نے ایک شخص کو محروس رکھا ہے لیکن برائی اور غلط کاموں کے خلاف لڑائی سے متعلق اس کے جذبہ اور عزم مصمم کو قید نہیں کرسکے۔ ڈیڈی… وہ لوگ آپ کو آپ کے گھر اور ارکان خاندان سے دور رکھ سکتے ہیں لیکن یہ بدقماش عناصر آپ کو آپ گھر والوں کی دعاؤں اور نیک تمناؤں سے دور نہیں رکھ سکتے اور سب سے اہم بات یہ ہیکہ وہ عناصر اپنی مرضی و منشا کے مطابق سچائی کو دبا سکتے ہیں لیکن وہ اسے چھپا نہیں سکتی اور نہ ہی سچائی کو وہ فراموش کرسکتے ہیں۔ گذشتہ ایک سال 3 ماہ کا عرصہ یقینا ایک مشکل ترین وقت تھا جس سے ہمارے خاندان کو گذرنا پڑا۔ وہ کینہ پرور ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور اسے منہدم کردیا۔ وہ صبح کی اولین ساعتوں میں ہمارے گھر پہنچے اور آپ کو گرفتار کرکے لیکر چلے گئے۔ گذرتے وقت کے ساتھ وہ پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ آپ کو خاموش کرنے اور آپ کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی اپنی کوششوں میں انہیں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ان لوگوں نے سمجھا تھا کہ اس طرح کی حرکتوں سے آپ ٹوٹ جائیں گے بکھر جائیں گے، وہ بڑی خوش فہمی میں مبتلاء تھے ان کے اندازوں و توقعات کے برعکس ہم ایک انتہائی مضبوط و آہنی عزم و حوصلے رکھنے والے شخص کا خاندان ہیں۔ وہ کینہ پرور ہمیں مجروح کرنے کچھ بھی کرسکتے ہیں اور بعض وقت وہ اپنے ناپاک عزائم و ارادوں میں کامیاب بھی ہوسکتے ہیں لیکن ایک چیز ہے اور وہ یہ کہ اپنے عناصر کبھی بھی ہمیں توڑ نہیں سکتے۔ اپنی ساری زندگی میں دی دی اور میں نے آپ کو دیکھا آپ سے عزم و حوصلہ حاصل کیا ۔ بڑھتے ہوئے بھی ہم نے آپ سے ہی حوصلہ پایا اور جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ایک چیز ہم میں بچپن سے ہی بڑی مضبوطی کیساتھ سرائیت کرگئی ہے یا جذب ہوگئی ہے کہ ہمیشہ سچائی کا ساتھ دو، سچائی پر قائم رہو، سچائی کیلئے ڈٹ جاؤ چاہے تمہارا مقابل کتناہی طاقتور اور عیار و مکار کیوں نہ ہو۔