پوار اور امیت شاہ کی باہم الزام تراشی، آج امیت شاہ کے مزید انتخابی جلسے
ناگپور ؍ لاتور ۔ 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ اور این سی پی کے صدر شردپوار نے جمعرات کے دن ایک دوسرے پر دستور کی دفعہ 370 کے مسئلہ پر مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کے دوران ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا۔ شردپوار نے ناگپور کے قریب علاقہ ہنگوا میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی دفعہ 370 کی برخاستگی کا خیرمقدم کرتی ہے لیکن کیا بی جے پی اس بات کی وضاحت کرے گی کہ وہ اس مسئلہ کو اپوزیشن کا استحصال کرنے کیلئے کیوں استعمال کررہی ہے۔ بی جے پی قائدین آج ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ اس کے بارے میں ہماری کیا رائے ہے۔ امیت شاہ نے قبل ازیں دن میں جاننا چاہا تھا کہ کیا پوار اور کانگریس قائد راہول گاندھی دستور کی دفعہ 370 کی برخاستگی کی تائید میں ہیں یا اس کی مخالفت کرتے ہیں لیکن پہلے کشمیری عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہوگا۔ شردپوار نے کہا کہ برسراقتدار قائدین آج اپوزیشن پر تنقید کررہے ہیں کیونکہ عوام کے بنیادی مسائل کی یکسوئی کیلئے انہوں نے کیا کیا ہے جس کا تذکرہ کرنے کے بجائے وہ دفعہ 370 کی تنسیخ کی مخالفت کررہے ہیں۔ پوار نے وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردوں کے کیمپوں پر بالاکوٹ میں فضائی حملوں سے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر نے کہا تھا کہ اس اقدام کا فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کل جماعتی قائدین کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور دہشت گردی کے مقابلہ کا فیصلہ ایک فرد کا فیصلہ نہیں تھا لیکن سیاسی فائدے فوج کی دلیری کے مظاہرے سے بھی حاصل کئے گئے۔ پوار نے سوال کیا کہ کیا یہ اقدام درست تھا۔ سابق وزیراعظم اندرا گاندھی نے کسی کا سیاسی استحصال نہیں کیا حالانکہ انہوں نے 1971ء کی جنگ میں فتح حاصل کی تھی۔ پوار نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ چھتیس گڑھ میں شیواجی میموریل کے بحر عرب میں قیام کیلئے ڈسمبر 2016ء سے اب تک کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ شردپوار اور کانگریس قائدین نے کہا کہ وہ دفعہ 370 کی برخاستگی کے مسئلہ پر ان سے سوال کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ شیواجی کی یادگار کو انتخابی موضوع کیوں نہیں بنایا جاتا ۔ دریں اثناء قومی صدر بی جے پی امیت شاہ مزید تین انتخابی جلسوں کو مہاراشٹرا میں مخاطب کریں گے۔ پارٹی نے جمعرات کے دن کہا کہ امیت شاہ کی انتخابی مہم مہاراشٹرا اور ہریانہ میں جاری رہے گی اور وہ کئی عام جلسوں سے خطاب کریں گے اور پارٹی امیدواروں کی تائید کی اپیل کریں گے۔