دنیا کی معیاری اور ترقی یافتہ زبانوں میں اردو بھی شامل:پروفیسر اسماء خان

   

سولاپور : اردو ایک زندہ زبان ہے اور یہ دنیا کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے ۔ تاریخی ثبوت کی بنا پر ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب کا اہم کردار رہاہے جبکہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ یہ دم توڑتی ہوئی زبان ہے اردو کبھی پستی میں نہیں جائے گی، نہ مٹی ہے نہ مٹے گی اردو چاہنے والوں کے ہونٹوں پر ہمیشہ رہے گی جو شیرینی و لطافت اردو میں ہے وہ کسی دوسری زبان میں نہیں ہے ۔ اس بات کا اظہارپروفیسر اسماء خان نے کیا۔ پروفیسر اسماء خان بطورِ خادمان اردو فورم کے زیرِ اہتمام انگریزی اور مراٹھی میڈیم کے طلبہ کے لیے گرمیوں کی تعطیلات میں 40 روزہ اردو کلاس کے کریش کورس کے اختتامی اور تقسیم اسناد پروگرام میں اپنے تاثرات پیش کیے ۔ انہوں نے مزید اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انجینئرنگ اور میڈیکل کی تعلیم کا بھی اس زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے ۔اس زبان کو جو درجہ ملنا چاہیے وہ مل نہیں سکا اس کے باوجود یہ زندہ اور دلوں پر راج کر رہی ہے ۔ مادری زبان اردو ہونے کے باوجود دیگر زبانوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ایسے طلبہ اردو ضرور سیکھیں۔انہوں نے خادمان اردو فورم کے اس اقدام کی بھر پور تائید کی اور اردو کی ترقی و اشاعت کے لیے جو بنیادی قدم اٹھایا ہے سبھوں نے اس کی تقلید کرنی چاہیے کیوں کہ یہ صرف زبان نہیں اس میں ہماری تہذیب و ثقافت مضمر ہے ۔جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر کی مثال پیش کرتے ہوے کہا کہ ہٹلر جب بھی حملہ کرتا تو اس نے ان کی زبان کو مٹانے کی کوشش کی تاکہ ان کی ثقافت ختم ہو جائے ۔اردو نے دنیا کو غالب، پریم چند، اقبال جیسے جواہر دیے ، انھوں نے مغربی ادیبوں کا مقابلہ کیا اور اپنی بالادستی قائم کی۔گزشتہ دو سالوں سے خادمان اردو فورم سولاپور گرمیوں کی تعطیلات میں غیر اردو میڈیم طلبہ کے لیے مفت اردو کلاسز کا انعقاد کرتا ہے ۔